خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 40
خطبات طاہر جلد ۸ 40 خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء طرف بڑھنے لگے۔یہاں تک کہ ایک ایسار یلا آیا کہ جس میں یہ علماء ہواؤں میں لٹکے ہوئے رہ گئے اور ان کے نیچے کی تمام زمین نکل گئی تھی۔یہ ہے وہ اصول کی بات جو بد قسمتی سے آج تک ہمارے سیاستدان نے نہیں سیکھی اس وقت جو پاکستان میں صورتحال ہے اُس میں بھی اسی قسم کی بعض باتیں ہیں جن کے فیصلے ہونے والے ہیں۔علماء کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے یعنی احمدیوں کے مخالف علماء کا کہ وہ خوف دلا کر اور دھمکیاں دے کر سیاستدان کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور شروع میں اُن کو صرف اتنی بات دکھاتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک چھوٹی سی جماعت کو مردود قرار دے دو اور اُس کے خلاف ہر قسم کی زیادتیوں کو برداشت کر جاؤ۔جہاں تک اکثریت کا تعلق ہے وہ تمہارے ساتھ رہے گی تم ہماری زبان کے چرکوں سے بھی بچے رہو گے اور ساری قوم میں تمہاری مقبولیت ہوگی کہ ایک ایسی جماعت کو تم نے رڈ کیا ہے جس جماعت کو قوم بحیثیت مجموعی رڈ کر چکی ہے اور یہ اکثریت کا فیصلہ ہے۔یہ بات بیچ میں سے چھپا جاتے ہیں کہ دنیا کی کسی اکثریت کوبھی یہ حق نہیں ہے کہ انصاف پر تبر رکھ سکے اور انصاف کے تقاضوں پر جمہوریت کی راجدہانی نہ کبھی پہلے ہوئی تھی نہ آئندہ کبھی ہوسکتی ہے۔جمہوریت کا مقصد انصاف کا قیام ہے اس لئے جمہوریت کی طاقت کو استعمال کر کے انصاف کی قربانی نہیں دی جاسکتی اور اصولوں کی قربانی نہیں دی جاسکتی جن کے بغیر جمہوریت چل نہیں سکتی۔تو اس حصے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اور اُسے چھپاتے ہوئے باقی بات کو بڑی عمدگی اور بڑے منطقی انداز میں سیاستدانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر سارے ملک میں شور مچاتے ہیں اور ایک مہم چلا دیتے ہیں اخباروں میں دھمکانے کی ، مرعوب کرنے کی۔وہ کہتے ہیں دیکھو جی یہی بات ہے خبر دار جو اس جماعت کی کسی نے تائید کی۔اگر تم نے تائید کی تو ہم شور مچائیں گے اور عوام کو بتا ئیں گے اور ان کو کہیں گے گلیوں میں نکلو یہ لوگ فلاں نواز ہیں اور فلاں کی تائید میں اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اُن کے ذریعہ سے طاقت میں آئے تھے، اُن کے ساتھ ان کی ساز باز ہے اور یہ اور وہ۔غرضیکہ عجیب و غریب ایسی کہانیاں ہیں جنہیں وہ دھمکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔جہاں تک موجودہ حکومت کی سیاسی پارٹی کا تعلق ہے میں جانتا ہوں کہ اُن میں سے بھاری اکثریت ایسی ہے جو بدنیت نہیں ہے۔اُن کے اصول بھی آزاد تھے۔اُنہوں نے عوام سے یہ وعدہ کیا