خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 443
خطبات طاہر جلد ۸ 443 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء قومیں ہیں، مسلمان حکومتیں ہیں اس کے باوجود آپ کو کامیابی ہو رہی ہے ہمیں نہیں ہو رہی ؟ تو میں نے کہا جو چیز ہمارے پاس ہے وہ تمہارے پاس نہیں ہے۔کیا کیا جائے اب؟ مذہب کی اصل دولت، مذہب کی روح اور مذہب کی جان تو خدا ہوا کرتا ہے اگر کسی کے پاس خدا ہو تو اس نے کامیاب ہونا ہی ہونا ہے۔کوئی طاقت دنیا کی اس کو روک نہیں سکتی اور جس کے پاس نہیں ہے وہ ظاہری ذرائع سے دنیا کے اپنی دولتوں اور دنیاوی قوتوں کے ذریعے بظاہر کامیابیاں حاصل کرتا ہے لیکن جو کچھ پیدا کرتا ہے وہ خدا والے لوگ نہیں ہوا کرتے بلکہ محض ایک جمیعت ہوتی ہے ایک بے جان جمیعت ہوا کرتی ہے۔آپ بے شک جائزہ لے کر دیکھ لیں ایسی تحریکات جن کے نتیجے میں تعداد بڑھ رہی ہوتی ہے محض تعداد بڑھتی ہے خدا تعالیٰ کی محبت کے اثر نہیں پھیلتے۔پس یہاں آپ نے یہ کر کے دکھانا ہے۔آپ کی بقاء کے لئے ضروری ہے، امریکہ کی بقاء کے لئے ضروری ہے کہ اس ملک میں جولوگ احمدی بستے ہیں ان پر اس ملک کی وفا ضروری ہے اور اس وطن سے محبت ان کے ایمان کا حصہ بنائی گئی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے اور اس محبت کا اس وفا کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے زیادہ قیمتی چیز جو آپ کے پاس ہے وہ ان کو دیں اور وہ دینے سے پہلے آپ کے پاس ہونی چاہئے۔پس اس پر اگر آپ غور کریں اور سنجیدگی کے ساتھ کام شروع کر دیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دوسرے سارے کام، ساری کوششیں اس ایک کوشش کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔وہ معمولی اور ادنی باتیں آپ کو دکھائی دیں گی اور باقی سب کوششوں میں محنت کرنی پڑتی ہے بہت۔باقی سب کوششوں میں وقت بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے، روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے، توجہ دینی پڑتی ہے، جسمانی تکلیفیں اُٹھانی پڑتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے کم سے کم آغاز میں کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی۔یعنی عبادت بھی بعد میں پیدا ہوتی ہے پہلے محبت پیدا ہوتی ہے۔خدا سے پیار بڑھا ئیں، اللہ سے تعلق پیدا کریں، اس سے دعائیں مانگیں اور عاجزانہ بے تکلفی کے ساتھ خود مانگیں اپنے بچوں کو سکھائیں کہ دیکھو ان باتوں میں اپنے اللہ کی طرف توجہ کیا کرو۔پھر جب آپ خدا کے پیار کے نمونے دیکھیں گے تو بعد میں جو مشقتیں کرنی پڑیں گی ان کی طاقت خدا دے گا۔اس لئے مسلسل یہ رستہ آسان رہتا ہے اور مسلسل دیکھنے والوں کو یہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔جو راہ سلوک پر چلا کرتے ہیں ان اور کے لئے ہر قدم اگلے قدم کو آسان کر دیا کرتا ہے اور دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بڑی مصیبت ہے، بڑی