خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد ۸ 442 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء آرہا تھاوہ میدان سے نکل گیا۔جب دوبارہ الیکشن ہوا تو پھر بھی ووٹ برابر برابر ہو گئے اور ٹائی پڑگئی لیکن یہ پہلا واقعہ دیکھنے کے بعد اس کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ خط دکھاتا پھرتا تھا سب کو کہ مجھے خط آ گیا ہے میں نے جیتنا ہی جیتنا ہے۔اس وقت اس حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک نمائندہ مقرر کیا جائے جس کو یہ اختیار دیا کہ میرٹ کی بات نہیں ہے تم جاؤ جس پہ تمہارا دل مطمئن ہو اس کو بنا دو۔جھگڑا ختم اور پریذیڈنٹ سے یہ اختیار لے کر وہ آدمی وہاں پہنچا اور اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ شخص احمدی تھا۔اب یہ عجیب بات ہے کہ پریذیڈنٹ نے اس موقع پر چنا بھی تو ایک احمدی کو چنا اور اس نے جب خط دیکھا تو فیصلہ ہو چکا تھا۔اب یہ خدا کی تقدیر ہے ، یہ شروع سے آخر تک یہ سارا سلسلہ اس قسم کا ہے کہ دیکھنے والے کو نظر آتا ہے کہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہو رہا، کوئی اتفاقات کی بات نہیں ہے بلکہ خدا کی تقدیر چل رہی ہے۔چنانچہ نہ صرف یہ کہ وہ خود احمدی ہوئے بلکہ اس علاقے میں اس کا اتنا اثر ہوا کہ اس علاقے میں پھر دعوتیں دی گئیں ہمیں کہ آپ اپنے مبلغین بھیجیں اور پیراماؤنٹ چیفس نے ایک نہیں بلکہ دو تین اوروں نے بھی دعوتیں دیں اور پھر شکوے کئے کہ پہلے ہمارے پاس کیوں نہیں آدمی بھیجے؟ اور ایک علاقے میں یا وہ ان کا اپنا علاقہ تھایا ان کے ساتھ کا مجھے یقینی طور پر یاد نہیں لیکن اسی کے نتیجے میں جو پھل ملے ہیں ان میں سے ایک پھل تھا۔ایک علاقے میں جب وہ ہمارے مبلغین کی ٹیمیں پہنچی ہیں تو ایک کے بعد دوسری دفعہ یہ مہمات چلیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ایک ہفتے میں ایک دفعہ آٹھ ہزار، دوسرے ہفتے دوسری دفعہ سات ہزار کچھ یعنی پندرہ ہزار سے زائد بیعتیں اس علاقے میں ہو گئیں اور مبلغین یہ کہتے ہیں کہ ہماری اپنی کمزوری یا ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں ، ہم تعداد میں بھی تھوڑے ہیں، دوسرے علاقوں میں بھی جانا ہے ورنہ سارا علاقہ تیار بیٹھا ہے۔صرف ہم یہ انتظار کرتے ہیں کہ جائیں ، اُن کو سمجھائیں ، ان کے علماء سے باتیں کریں اور وہ مطمئن ہو جائیں تو ایک دعا اور وہ بھی ایسی جو لکھنے والے کی وجہ سے خاص رنگ پکڑ گئی ہو اور اس کے نتیجے میں خدا نے اتنے پھل دیئے ہیں۔اس کے علاوہ بھی ایسے کرشمے روز افریقہ میں دکھائی دیتے ہیں جہاں دعاؤں کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کثرت سے جماعت کو پھیلا رہا ہے۔جب میں جہاز میں آرہا تھا تو ایک دوست کینیڈین تھے اُن کو اس بات میں دلچسپی پیدا ہوئی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے ہم عیسائی اتنی دولت خرچ کر رہے ہیں دوسری بڑی بڑی