خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد ۸ 437 خطبه جمعه ۲۳ جون ۱۹۸۹ء صلى الله صلى الله سے گھبرا کر بھاگنے کی ضرورت نہیں ، ان کو اس فکر کی ضرورت نہیں کہ ہماری نسلوں کا کیا بنے گا؟ ظاہری تعلیم و تربیت کا انتظام نہ بھی ہو ۔ اکیلا بھی ایسا شخص ایک بہت بڑے شہر میں بستا ہو جو برائیوں کی آماجگاہ بن چکا ہو تب بھی اگر خدا کا تعلق اُس کو حاصل ہے تو اس نے ضرور فتح یاب ہونا ہے۔ اس کی نسلوں کو دنیا میں کوئی طاقتہ یں کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ پھر میرا ذہن حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ ہی طرف منتقل ہوتا ہے۔ آپ نے ایسی ہی دنیا میں تو قدم رکھا تھا جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم) (۴۲) یعنی فساد ایسا غالب آچکا ہے کہ نہ اس نے خشکی کو چھوڑا نہ تری کو چھوڑا ، ہر قسم کے لوگ خواہ وہ مذہبی تھے یا غیر مذہبی تھے فساد سے مغلوب ہو چکے ہیں۔ آنحضرت علی کو اس فساد سے کوئی عليه سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہ فساد جس نے ساری دنیا کو مغلوب کر لیا تھا اس فساد کو مغلوب کرنے کے لئے ایک رسول بھیجا گیا وہ تنہا تھا اور اس وقت اس کے ساتھ اور کوئی نہیں تھا سوائے خدا کی محبت کے۔ پس یہی وہ زندگی کا نسخہ ہے جو پہلے کامیاب ہوا تھا اور آج بھی کامیاب ہوگا۔ اس نسخے کے سوا اور کوئی نسخہ کامیاب ہو نہیں سکتا اس لئے جماعت امریکہ کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس شخص کو یہ ذاتی تجربہ ہو کہ خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اُس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے وہ اپنے فیض کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا کرتا۔ میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہا جو دکھاوے کی خاطر یہ بتانے کے لئے کہ مجھ سے اللہ کا تعلق ہے بڑھ بڑھ کر مجالس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ اس طرح خدا مجھ سے سلوک کرتا ہے۔ میں اُن لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو جانتے ہیں کہ خدا کا اُن سے تعلق ہے اس حد تک کہ وہ ذرہ نوازی فرماتے ہوئے ان سے پیار کا سلوک کرتا ہے جب اُن کی نظر کسی دکھی پر پڑتی ہے تو خواہ اس کو بتائیں یا نہ بتائیں بے اختیار ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے اور پھر ایسے لوگوں کی خوشبو ماحول میں پھیلنے لگتی ہے خود بخود۔ کہتے ہیں مشک کی خوشبو چھپائے چھتی نہیں ۔ مشک آنست که خود ببوید نہ کہ عطار بگوید ۔ مُشک تو وہ ہوتا ہے جو خود بخود اپنی بو پھیلاتا ہے بجائے اس کے کہ عطار بتائے اس میں خوشبو ہوتی ہے۔ تو وہ لوگ جو خدا کی محبت سے معطر ہو چکے ہوتے ہیں، جو خدا کی رضا کے عطر سے ممسوح ہو چکے ہوتے ہیں اُن کی خوشبو خود بخود پھیلتی ہے۔ وہ چھپا ئیں تب بھی پھیلتی ہے۔ وہ نہ دکھانا چاہیں تب بھی لوگوں کو نظر آتی ہے اور پھر لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، لوگ ان سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی کچھ کرو، ہمارے