خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 436

خطبات طاہر جلد ۸ 436 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء ساتھ اور کامل رضا کے ساتھ ان تکلیفوں کو برداشت کیا صرف اس لئے کہ وہ خدا کو راضی کرنا چاہتے تھے اور خدا کی خاطر سب کچھ چھوڑ بیٹھے تھے۔وہ ایسے لوگ تھے۔جب اُس صحابی نے یہ بات سنی آنحضرت ﷺ کے دل کی یہ کیفیت دیکھی تو شرمندگی کے ساتھ اور پیشمانی کے ساتھ بالکل پانی ہو گئے ، بے اختیار ہو گئے اور اس کے بعد پھر کبھی کسی صحابی کے منہ سے آنحضرت ﷺ نے کوئی شکوہ نہیں سنا۔یہ وہ لوگ تھے جن کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّا میں اے محمد مصطفیٰ ! کے غلاموں بظاہر تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے لیکن تم خیر امت ہو۔اس دنیا ہی کی نہیں ، صرف عربوں کی نہیں بلکہ ارد گرد کی تمام دنیا کی اس ساری دنیا کی بھلائیاں تم سے وابستہ کی جاچکی ہیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کی بھلائیاں بھی تم سے وابستہ کی جا چکی ہیں۔اُن بھلائیوں کا راز دراصل ان کے تعلق باللہ میں تھا اور تعلق باللہ ہی تھا جو سب سے زیادہ بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا کو عطا کیا گیا تھا۔یعنی تعلق باللہ تو محمد رسول اللہ ﷺ کے دل میں تھا لیکن وہ تعلق پھیلا ، نور ایسا تھا جو ایک سینے میں رہنے والا نہیں تھا دوسرے سینوں میں منتقل ہوا اور آخری مقصد یہ تھا کہ بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچے۔پس دیکھئے کہ جب رسول دنیا میں آتے ہیں تو ان کے آغاز میں کسی قسم کی دنیاوی شوکت یا برتری ان کو نہیں ملا کرتی۔ایک رسول تنہا دنیا میں آتا ہے ساری دنیا اس کی مخالفت کرتی ہے اور وہ بنی نوع انسان کے فوائد کے لئے سب سے زیادہ اہم وجود ہوا کرتا ہے اپنے زمانے میں۔پس وہ کونسی چیز ہے اُس رسول میں جس سے بنی نوع انسان کے فوائد وابستہ ہو جاتے ہیں۔وہ اس کا تعلق باللہ ہے، وہ اللہ سے اُس کا پیار ہے، اللہ سے اس کی محبت ہے اور اس کے جواب میں اس کی دعاؤں کی مقبولیت ہے۔پس یہ تیسری چیز ہر دوسری چیز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔اگر نئے ہونے والے احمدیوں کو یا جو پرانے احمدی ہیں ان کو بھی اور جو بچے احمدیوں میں پیدا ہورہے ہیں ان کو بھی اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے کہ کتنے ان میں سے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق قائم کر لیا ہے اور ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اگر اس پہلو سے جائزہ لیا جائے اور تربیت کا انتظام کیا جائے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مغربی دنیا میں اور امریکہ میں بسنے والوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔اُن کو اس ملک