خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 435

خطبات طاہر جلد ۸ 435 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء سینکڑوں سال تک ایک چھوٹی سی بے عزتی کا بدلہ اتارنے کے لئے وہ فخر سے کہا کرتے تھے کہ ہم نے اپنے دنیا کے مفادات کو اس آگ میں جھونک دیا اور کچھ بھی پرواہ نہ کی اور امر واقعہ یہ ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر قبائل میں ایسی جنگیں چھڑیں جو دو دوسوسال تک جاری رہیں۔وہ قبائل جو غیر معمولی عظمت رکھتے تھے وہ مٹتے مٹتے صفحہ ہستی سے مٹنے کے کنارے تک پہنچ گئے لیکن اس جھوٹی غیرت نے پھر بھی چین نہ لیا اور اس کی پیاس نہ بھی۔ان قوموں سے وہ صحابہ آئے تھے جن کو حضرت محمد مصطفی امی نے صبر سکھایا تھا، جن کو راضی برضا رہنا سکھا دیا تھا، جن کو بتایا گیا تھا کہ خدا کی عزت کے سوا اور کوئی عزت نہیں ہے اور خدا کے نام پر صبر کرنے سے بہتر اور کوئی عظمت نہیں ہے جو انسان حاصل کر سکتا ہے۔بہر حال ان کے اپنے ایک پس منظر کے نتیجے میں کسی کا پیمانہ بعض دفعہ لبریز بھی ہو جایا کرتا تھا۔پس اس صحابی کا پیمانہ بھی لبریز ہوا اور اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا۔یا رسول اللہ! ہم تو بڑے معزز ہوا کرتے تھے اور ایسے قوم میں معزز تھے کہ کسی کی مجال نہیں تھی کہ میلی آنکھ سے ہمیں دیکھے آج آپ کو قبول کرنے کے بعد دنیا کے ذلیل ترین لونڈے، گلیوں کے بچے ہم پر آوازیں کستے ہیں، ہم پر پتھر اٹھاتے ہیں، ہمیں ذلیل ورسوا کرتے ہیں۔ایک سال نہیں ، دو سال نہیں سال پر سال گزرتے چلے جارہے ہیں اور اس حالت کو ہم برادشت کرتے چلے رہے ہیں آخر کب تک ایسا کریں گے؟ کیوں ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنے انتقام کے لئے اپنی تلوار اٹھائیں اور اس کے نتیجے میں جو کچھ ہم پر گزرتی ہے اسے برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں گے ہم۔یہ جب آنحضرت ﷺ نے بات سنی تو حضور اکرم ﷺ کا چہرہ جوش سے تمتمانے لگا۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے خدا کے نام پر ہرقسم کی بے عزتیاں برداشت کیں، ہر قسم کے دکھ اُٹھائے۔یہاں تک کہ ان میں ایسے بھی تھے جن کی کھالوں کولو ہوں کے آنکڑوں سے جس طرح کنگھی کی جاتی ہے بالوں پر اس طرح لوہے کے کنگوں سے ان کی جلدیں نوچی گئیں۔یہاں تک کہ ان کے بدن ننگے ہو گئے اور پھر ان کے گوشت نوچے گئے یہاں تک کہ ہڈیاں دکھائی دینے لگیں لیکن انہوں نے اُف نہیں کی اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ان میں ایسے بھی تھے جن کو بعض درختوں سے باندھ کر ان کے سر پر آرے چلائے گئے اور سر سے لے کر نیچے تک دو نیم کر دیا گیا جس طرح شاخیں دو کائی جاتی ہیں، جس طرح لکڑیاں کائی جاتی ہیں لیکن انہوں نے کامل صبر کے