خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 39

خطبات طاہر جلد ۸ 39 خطبہ جمعہ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء سیاستدان کے طور پر یہ فیصلہ کرے کہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی نمائندہ مذہبی جماعتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ، رڈ کرتے ہوئے، مخالف بناتے ہوئے ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت کو قبول کر لے محض اس لئے کہ اس کے نزدیک اصول کا تقاضا یہ تھا کہ اکثریت کی رائے کورڈ کر دیا جائے اور ایک چھوٹی اقلیت جماعت کی رائے کو قبول کر لیا جائے۔چنانچہ قائد اعظم نے انتہائی دباؤ کے باوجود ان کی اس بات کو قبول نہیں کیا۔انہوں نے کہا میرے نزدیک مسلمان سیاست میں بنیادی طور پر یہی اصل ہمیشہ قائم رہے گا کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اس کا حق ہے کہ بحیثیت مسلمان مسلمانوں کی سیاست میں حصہ لے۔جو شخص اپنے منہ سے اپنے اسلام کا انکار کرتا ہے اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہو یہ اتنی سی بات تھی۔چنانچہ انہوں نے احمدیوں کی ممبر شپ روکنے کی بجائے با قاعدہ ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ ہر احمدی مسلم لیگ کا ممبر بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں دوسری تمام مذہبی جماعتیں اگر ناراض ہو کر مسلم لیگ کی ممبر شپ سے الگ ہوتی ہیں تو ہونے دو۔یہ وہ اصولی فیصلہ تھا جس کے نتیجہ میں دراصل قائد اعظم کامیاب ہوئے یہ وہ اصولی فیصلہ تھا جو خدا کو پسند آیا جو انصاف اور تقویٰ کی بات تھی جس نے در حقیقت ایک ہاری ہوئی بازی کو جتا دیا۔میں سمجھتا ہوں یہ اسی فیصلے کی برکت تھی کہ ایک عظیم انقلاب رونما ہونا شروع ہوا۔اس فیصلے سے پہلے خود پنجاب میں بھی قائد اعظم کے ہم خیالوں کو کوئی طاقت حاصل نہیں تھی۔ایک یونسٹ (Unionist) حکومت تھی خضر حیات کی جو مسلم لیگ کے مخالف اور کانگریس کے اصولوں سے متفق تھی اور جس پنجاب جو آج پاکستان کی جان ہے اس پنجاب میں بھی اگر مسلم لیگ کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو اندازہ کریں کہ اس وقت یہ فیصلہ کرنا کہ تمام بڑی مذہبی جماعتیں جس سے ناراض ہو جائیں اور ایک چھوٹی سی اقلیت کو خوش کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے اصول پر قائم رہنے کی خاطر اس چھوٹی سی اقلیت کو ترجیح دے دینا۔یہ وہ فیصلہ تھا جس نے حالات کی کایا پلٹ دی۔دیکھتے دیکھتے وہ بڑے بڑے علماء جو قائداعظم کو رڈ کر چکے تھے ان کے پلیٹ فارم ان کے قدموں تلے سے کھسکنے شروع ہوئے اور قائداعظم کے قدموں کی طرف بڑھنے لگے۔وہ قدم جوان پلیٹ فارموں کی طرف لالچ کی وجہ سے نہیں بڑھے تھے خدا نے ان کے ان پلیٹ فارموں کو ان کے مالکوں کے قدموں کے نیچے سے نکال دیا اور وہ پلیٹ فارم قائد اعظم کی