خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 434

خطبات طاہر جلد ۸ 434 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء بے خدا تھے اب باخدا ہو گئے ہیں۔اگر ایسا ہے تو یہ یقیناً ایک خطرناک علامت ہے اور نظام جماعت کو نگران رہنا چاہئے اور ذاتی طور پر ہر شخص میں دلچسپی لینی چاہئے۔جب بھی کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے یا مسلمانوں میں سے احمدیت میں داخل ہوتا ہے اُس کی ذاتی نگرانی کا جماعتی انتظام ہونا چاہئے اور بڑی باریک نظر سے یہ مطالعہ کرنا چاہئے کہ اس کے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں یا نہیں جو اسے باخدا بناتی ہیں مثلاً اس کی دعا میں مقبول ہو رہی ہیں یا نہیں، اللہ تعالیٰ سے پیار اور محبت میں وہ ترقی کر رہا ہے یا نہیں اور اس محبت کے مقبولیت کی علامتیں دیکھ رہا ہے کہ نہیں۔اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میرا وسیع تجربہ ہے کہ جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کے ساتھ اس حد تک تعلق قائم ہو جائے کہ وہ اس تعلق کے ذریعے غیروں کو فائدے پہنچانے لگیں ان پر اس آیت کا اطلاق سب سے زیادہ ہوتا ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ اور تمام مذہبی تاریخ، تمام نبوت کی تاریخ اس بات پر گواہ کھڑی ہے۔انبیاء جب دنیا میں پیغام لے کر آتے ہیں تو ان کے ساتھ بظاہر کوئی ظاہری فائدہ بھی قوم کو میسر نہیں آتا۔کچھ بھی ان کی ذات سے وابستہ نہیں ہوتا بلکہ وہ جب آتے ہیں وہ تو ایسے پیغام دیتے ہیں کہ جو دولت مند تھے وہ فقیر ہو جایا کرتے ہیں، ان کے اموال لوٹ لئے جاتے ہیں، جو گھر والے تھے وہ بے گھر ہو جایا کرتے ہیں، جو وطن رکھتے تھے وہ بے وطن ہو جایا کرتے ہیں، ان کی عزتیں لوٹ لی جاتی ہیں، ان کے ساتھ قوم ایسا ظلم کا سلوک کرتی ہے کہ گویا ساری زندگی کی کمائیاں خواہ وہ عزت کی کمائیاں ہوں یا مقام اور مرتبے کی دوسری کمائیاں ہوں یا دولتیں ہوں یا گھر ہوں بعض دفعہ سب سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے تو دیکھئے بظاہر ایک ایسا شخص آیا جس نے بجائے اس کے کہ آپ کو عظیم الشان فوائد پہنچا تا آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ بھی آپ کے پاس نہ رہنے دیا۔اگر چہ براہ راست ایسا نہ کیا لیکن اس کے پیغام نے وہی کام کر دکھایا گویا اس نے آپ سے سب کچھ چھین لیا۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی میلے کے پاس ایک مرتبہ ایک معزز صحابی حاضر ہوئے جو ماحول کے مظالم اور ذلت آمیز سلوک سے تنگ آگئے تھے۔عرب لوگ بڑے با غیرت تھے اور عرب سردار تو غیرت رکھنے میں حد اعتدال سے بھی آگے بڑھ چکے ہوتے تھے اور عربوں میں یہ کہانیاں، ایسی نظمیں، ایسے اشعار عام معروف تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو ایک معمولی سی بے عزتی کے نتیجے میں اپنے اپنے خاندان کو خوفناک جنگوں میں جھونک دیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ نسلاً بعد نسل