خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد ۸ 430 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء بد عادات پیدا ہو رہی ہوں۔جہاں معاشرے بگڑ رہے ہوں اور اس حد تک بگڑ رہے ہوں کہ ان کی آئندہ نسلوں کے لئے بقاء کا سوال پیدا ہو جائے کہ وہ زندہ بھی رہیں گی کہ نہیں ایسی صورت میں جماعت احمدیہ کے لئے روپے پیسے کا انتظار کرنا کہ روپیہ پیسہ ہو تو ہم خدمت کریں نہایت بیوقوفوں والی بات ہوگی۔آپ کے پاس روحانی دولت موجود ہے، آپ کے پاس وہ اخلاقی اقدار موجود ہیں۔جہاں تک کچھ خدمت کا یعنی مادی خدمت کا تعلق ہے اس کی ایک دو مثالیں میں نے دی ہیں وہ بھی کی جاسکتی ہیں لیکن اس کے علاوہ جو بڑی خدمتیں قرآن کریم ہمارے سپر د کرتا ہے اگر ان خدمتوں میں لگ جائیں تو آپ پر لازماً اس آیت کا اطلاق ہوگا کہ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ في الْأَرْضِ کہ دیکھو خبر دار وہ لوگ وہ تو میں یا وہ افراد یا وہ چیزیں جو بنی نوع انسان کے لئے فوائد رکھتی ہیں وہ باقی رہا کرتی ہیں ان کو خدا تعالیٰ مٹنے نہیں دیا کرتا۔پس جہاں تک سیلاب کے نظارے کا تعلق ہے وہ تو ایک قدرتی خودرو چلنے والا ایک نظارہ ہے۔جہاں تک مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے اس میں ایک اور عنصر بھی داخل ہو جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید کا عنصر ہے اور اس کے وعدے کا عنصر ہے۔پس جہاں جہاں جماعتیں موجود ہیں اگر وہ یہی پروگرام بنا ئیں کہ اپنے معاشرے کی تکلیفوں کا جائزہ لینے کے بعد ، ان کی بد عادات کا جائزہ لینے کے بعد ، ان کے خلاف ایک جہاد شروع کریں اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ ان کو پہلے احمدی بنا ئیں۔یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ مذہب اختیار کر لیں خواہ اسلام ہو یا غیر اسلامی مذہب ہو۔یہاں قرآن کریم اس قسم کی کوئی تفریق نہیں کرتا۔قرآن کریم صرف یہ ایک تقاضا کرتا ہے کہ اگر تم خیر امت بننا چاہتے ہو، اگر تم اپنے بہتر ہونے کے مضمون کو ثابت کرنا چاہتے ہو اور اس سے استفادہ کرنا چاہتے ہو تو یہ کام تو ضرور تم کر سکتے ہو اور وہ فوراً شروع کر دو کہ ماحول پر نظر رکھتے ہوئے ان کی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش شروع کر دو اور ان کے اندر خوبیاں پیدا کرنے کے لئے ایک جہاد کرو۔اب یہ ایسا عظیم الشان مضمون ہے بظاہر سادہ اور بے خرچ لیکن بہت ہی گہرا اور بہت ہی عظیم الشان مضمون ہے اور ایسے ملکوں میں جیسے امریکہ ہے یا برازیل اور مغربی ممالک ہیں جماعت کی بقاء کے لئے بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔وہ شخص جو غیروں کو نصیحت کرتا ہے اس کا غیروں میں جذب ہو کر ضائع ہونے کا کوئی احتمال نہیں رہا کرتا۔اگر بچہ بھی