خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۸ 429 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء بڑے دردناک حالات ہوتے ہیں۔ایک نوجوان ہے جو بچپن سے بے سہارا رہا ہے اور اس سے کسی ایفر وامریکن نے یعنی ہمارے رنگ دار بھائی نے جو امریکن ہیں پیار کا سلوک کیا ، اسی سلوک سے متاثر ہو کر وہ احمدیت کی طرف مائل ہوا اور احمدیت قبول کی پھر مجھے خط لکھا کہ یہ میرے حالات ہیں۔تو جہاں تک دکھوں کا تعلق ہے وہ تو دنیا کی امیر ترین سوسائٹی میں بھی موجود ہیں۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ بعض پہلوؤں سے امیر سوسائٹی میں دُکھ زیادہ ہیں صرف ٹولنے کی بات ہے۔بہت سے ایسے دوست آپ کو چلتے پھرتے نظر آئیں گے جو بظاہر خوش ہوں گے اور رقص و سرود کے عادی یا شراب کے دھنی لیکن جب آپ ان کو ٹول کر دیکھیں گے تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ ان کے سینے مختلف قسم کے غموں اور فکروں سے چھلنی ہوئے ہوئے ہیں۔پس بنی نوع انسان کے فوائد کے معاملے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ فائدہ پہنچانے والی قوم اس قوم سے امیر ہو جس کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے بلکہ وہ خواص جو زندہ مذاہب کے نتیجے میں انسانوں کو عطا ہوتے ہیں وہ خواص ہی اپنی ذات میں فوائد کا سر چشمہ بن جایا کرتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کے غلاموں کے متعلق فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران : ) کہ اے امت محمد یہ ا تم جب سے دنیا میں امتیں پیدا کی گئی ہیں اس وقت سے ہمیشہ کے تمام زمانوں کو شامل کر کے تم بنی نوع انسان کے لئے بہترین امت ہو جو نکالی گئی ہو۔اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ نے اس مضمون کو حل کر دیا کہ کیوں بہترین ہو۔فرمایا اس لئے کہ تم ان کے فائدے کے لئے ہو۔اب جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس زمانے میں تو اسلام کو کوئی دنیا کی دولت نصیب نہیں تھی۔اس زمانے میں بعض مسلمان جو مسجد سے وابستہ تھے اصحاب الصفہ کہلاتے تھے ان میں سے بعض کو کئی کئی وقت کے فاقے پڑا کرتے تھے اور بالعموم مسلمان غریب تھے تو اس آیت نے یہ ہمیں دکھا دیا کہ بنی نوع انسان کے فوائد کا جہاں تک تعلق ہے اس کا دولت سے تعلق نہیں ہے بلکہ ایک رجحان سے تعلق ہے اور آگے جو مثال دی وہ بھی عظیم الشان مثال ہے اس میں بھی کسی دولت کی ضرورت نہیں۔تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران : ۱۱۱) که سب سے بڑا بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کا طریق یہ ہے کہ ان کو نیک باتوں کی نصیحت کرو اور بُری باتوں سے روکو۔اب اس میں کون سے پیسے لگتے ہیں۔پس سوسائٹی جو دکھوں سے بھری ہو اور جہاں