خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 428

خطبات طاہر جلد ۸ 428 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء اور حکومت کی دولت کا تو اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔کوئی نسبت نہیں ہے نہ ان کی تعداد کے مقابل پر نہ ان کی دولت کے مقابل پر ہم کسی شمار میں آ سکتے ہیں۔اس لئے ظاہری خدمت اگر کرنی ہے تو کیسے کی جاسکتی ہے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور یہی وہ سوال ہے جس پر آپ کو غور کرنا چاہئے۔خدمت کے بہت سے راستے نکل سکتے ہیں اور باشعور جماعتیں جو زندہ ہوں ان کی زندگی کی طاقت دراصل وہ طاقت ہے جو بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچایا کرتی ہے۔ظاہری دولت اور ظاہری تعداد ضروری نہیں۔جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ زندگی کی علامتیں بخشی ہیں اور وہ زندگی کی علامتیں ہی ہیں جو بنی نوع انسان کے فوائد میں استعمال میں لائی جاسکتی ہیں۔مثلاً وقار عمل کی جو روح جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے وہ آج دنیا کی بڑی سے بڑی آزاد قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے، بڑی سے بڑی ترقی یافتہ قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے۔میں پہلے انگلستان کے متعلق باتیں بیان کیا کرتا تھا کہ خدا کے فضل سے وقار عمل کی بڑی روح ہے۔کینیڈا آیا تو وہاں بھی یہی نظارہ دیکھا، امریکہ آیا تو وہاں بھی یہی نظارہ دیکھا۔کوئی ایک جماعت نہیں جہاں میں ٹھہراہوں اور وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقار عمل کے لحاظ سے نمایاں اور دل پر غیر معمولی اثر کرنے والی خدمات کو میں نے آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔پس یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے فضل سے وہ زندگی کی علامتوں کا جہاں تک تعلق ہے وہ امریکہ کی جماعت میں بھی بھر پور طور پر موجود ہیں۔مالی قربانی کا یہاں بیان کا موقع نہیں وہ بھی زندگی کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے لیکن اس کے علاوہ بنی نوع انسان کی خدمت بھی تو وقار عمل کی ایک شکل ہے۔مثلاً اندھوں تک پہنچنا اور ان کی سوسائٹی سے رابطے پیدا کرنے اور ان کی خدمت کرنا بہت سے ایسے گرے پڑے لوگ ہیں یہاں جو دولت میں رہتے ہوئے بھی بھوکے ہیں۔لکھوکھا ایسے آدمی ہیں جو بے گھر ہیں، بہت سے ایسے لوگ ہیں جو تنہا ہیں اُن کو سوسائٹی نے چھوڑ دیا ہے، بہت سے بوڑھے ہیں جن کی اپنی اولادیں ان سے قطع تعلق کر چکی ہیں۔اسی طرح بہت سے نوجوان ہیں جن کو اپنے ماں باپ کا پیار نصیب نہیں ہے اور جو لوگ ان سوسائٹیوں سے احمدی ہوتے ہیں وہ جب خط لکھتے ہیں تو ان سے مجھے یہ ساری باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ بعض افریقن احمدیوں میں سے ان افریقن امریکنز میں سے احمدی ہوئے تو انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ میرے حالات ہیں۔بعض دفعہ