خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 425

خطبات طاہر جلد ۸ 425 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء دیکھتے ہری کرشنا والوں کو بہت شہرت حاصل ہوئی ، مونہیں آئے اور اسی طرح دوسری کلٹس بھی کہ Let us join hands and die آؤ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر خود کشی کر لیں اس قسم کی کلٹس (Cults) بھی آئیں اور بظاہر بڑی مقبول ہوئیں لیکن واقعہ بظاہر مقبول ہوئیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی کیفیت جھاگ کی سی تھی اور آئندہ بھی کلٹس کی حیثیت جھاگ ہی کی رہے گی۔وہ نظر کے سامنے نمایاں طور پر آتی ہیں اور ہلکی ہونے کی وجہ سے ان کے اندر نہ فائدہ ہے، نہ وزن ہے، نہ سنجیدگی ہے ، نہ بنی نوع انسان کے لئے فوائد ہیں۔وہ آتی ہیں اور مٹ جایا کرتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی میری توجہ اس آیت کے اس حصے کی طرف بھی منتقل ہوئی وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ کہ اگر تم واقعہ دنیا میں قائم رہنا چاہتے ہوا ور ہمیشگی اختیار کرنا چاہتے ہو تو تمہارے اندر بنی نوع انسان کے لئے فوائد ہونے چاہئیں۔اس پہلو سے جب میں نے مزید غور کیا تو مجھے یہ حقیقت بھی سمجھ آگئی کہ کیوں بسا اوقات جماعت امریکہ کے بعض حصوں میں پھیلی اور پھر جلدی ختم ہو گئی ؟ وہ جھاگ کی طرح تو نہیں لیکن پھر بھی جو قرآن کریم نے یہ صفت بیان فرمائی ہے مذاہب کی کہ وہ ٹھہر جایا کرتے ہیں اور وقتی جوش اور وبال کے بعد مٹ نہیں جایا کرتے۔یہ صفت احمدیت کے اوپر امریکہ کے بعض حصوں میں اطلاق نہیں پاتی۔یہ فکر تھی جس کے نتیجے میں سوچتے سوچتے میرا مضمون اس آیت کی طرف منتقل ہوا اور میں نے جب غور کیا تو مجھے یہ راز سمجھ آیا کہ یہاں جب تک جماعتوں میں بنی نوع انسان کے فوائد کی صفات کو اُبھارا نہ جائے اور خصوصیت کے ساتھ ان کی طرف توجہ نہ دی جائے یہاں جماعتوں کا استقلال پکڑنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا اور جب آپ اس نقطہ نگاہ سے وسیع جائزہ لیتے ہیں تو آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ واقعہ بنیادی کمزوری یہی ہے۔جہاں بھی دنیا میں جماعتیں بنی نوع انسان کے فوائد کے کام کرتی ہیں اور بنی نوع انسان کے فوائد ان کے ساتھ وابستہ ہو جایا کرتے ہیں وہاں جماعتیں آکر گزر جانے والی ہواؤں کی طرح نہیں ہوا کرتیں بلکہ ان پانیوں کی طرح جو اپنے پیچھے غیر معمولی وزنی اقدار چھوڑ جایا کرتے ہیں وہ وہاں مستقل طور پر قیام پذیر ہو جایا کرتی ہیں، وہ وہاں جڑیں پکڑ جاتی ہیں۔پس اس مضمون کے ساتھ ہی افریقہ کی جماعتوں کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی اور میں نے دیکھا کہ واقعہ افریقہ میں بھی بہت سی تبدیلیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور ہوا میں چلتی ہیں کبھی مشرق