خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد ۸ 426 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء سے مغرب کو کبھی مغرب سے مشرق کو ، مذاہب کی طرف توجہ بھی ہوتی ہے، مذاہب سے توجہ ہٹ بھی جایا کرتی ہے لیکن جماعت احمدیہ کا جہاں تک تعلق ہے مسلسل وقت کے گزرنے کے ساتھ جماعت زیادہ مضبوط ہوتی چلی گئی ہے اور زیادہ مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے اور جماعت کے پاؤں زیادہ گہرے جمتے چلے جارہے ہیں لیکن انہی حصوں میں جہاں بنی نوع انسان کے فوائد ان سے وابستہ ہیں، جہاں بنی نوع انسان کے نظر آنے والے فوائد ان سے وابستہ نہیں ہیں وہاں ایسی مضبوطی کی کیفیت دکھائی نہیں دیتی۔چنانچہ مغربی افریقہ میں جہاں جہاں سکولز ہیں، ہسپتال ہیں،اس کے علاوہ جماعت میں خدمت کا جذبہ پایا جاتا ہے، بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبے کی روح جماعت میں زندہ ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کوئی انقلاب بھی جماعت کے اوپر برا اثر نہیں ڈالتا۔حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں، بعض دفعہ جمہوری حکومتیں قائم ہوتی ہیں ، بعض دفعہ فوجی حکومتیں قائم ہوتی ہیں اور بعض دفعہ بڑے خطرناک قسم کے بھی انقلاب آتے ہیں۔وہ دوسری چیزوں پر اثر انداز ہو جاتے ہیں مگر جماعت پر اثر انداز نہیں ہوتے۔چنانچہ اب جو صد سالہ جو بلی کے سلسلے میں وہاں مختلف ممالک میں اُن کے بڑے بڑے لوگوں نے یعنی دنیا کے نقطہ نظر سے بڑے لوگوں نے حکومت کے نمائندوں نے وزراء نے ، بڑے بڑے چیفس نے جماعتی تقریبات میں حصہ لیا اُن کی جو رپورٹیں مجھ تک پہنچتی ہیں ان میں یہ بات سب سے نمایاں نکلی کہ ہر مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جماعت بنی نوع انسان کے فائدے کی جماعت ہے اور بعض نے اپنے بچپن کے واقعات بتائے کہ ہماری یادیں جماعت کے ساتھ اس وقت سے وابستہ ہیں جب ہم نے ان کے مبلغین کو یہ نیک کام کرتے دیکھا، ان کے اساتذہ کو اس طرح محنت کر کے ہمارے بچوں کو پڑھاتے دیکھا اور ان کے ڈاکٹروں کو اتنی قربانی کر کے ہمارے بیماروں کو شفاء دیتے دیکھا اور یہ جو فوائد ہیں ان فوائد کے ذکر میں ان کی نگاہیں روحانی فوائد پر بھی پڑنے لگی ہیں اور یہ جو دنیاوی فوائد ہیں اس کے نتیجے میں ان کی نظر زیادہ گہرا اُتر کر جماعت کی روحانی حیثیت پر بھی پڑنے لگی ہے۔چنانچہ کثرت سے اس بات کا بھی افریقہ میں اقرار کیا گیا کہ باوجود اس کے کہ ظاہری طور پر ان کے ہسپتال دوسرے ہسپتالوں کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے، باوجود اس کے کہ دنیا کے جو جدید ترین آلات ہیں جراحی کے یا دوسرے خون وغیرہ کے امتحان لینے کے وہ ان