خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 413

خطبات طاہر جلد ۸ 413 خطبہ جمعہ ۱۶/ جون ۱۹۸۹ء کرتی ہی ہیں، انتڑیوں سے گزرنے کے بعد بھی جو چیز جسم میں داخل ہوتی ہے وہ براہ راست خون کا حصہ نہیں بنا کرتی وہ جگر میں سے گزرتی ہے، جگر میں فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں کیمسٹری کی ، کیمیکلز کی یعنی Pharmaceutical انڈسٹری ہے کہ اتنی بڑی انڈسٹری ہے کہ ایک عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ایک سائنٹسٹ جس نے اس انڈسٹری پر غور کیا ہے وہ بھی جانتا ہے کہ ابھی تک اس کے ہر پہلو پر وہ حاوی نہیں ہو سکا۔بے شمار چیزیں ہیں جن میں ابھی تک سائنٹسٹ کو کوئی جواب نہیں مل سکا۔ایک جگر ہے جس کو آپ بعض جگہ بکرا ذبح کرتے ہیں تو دو منٹ میں بھون کے کھا جاتے ہیں اور کبھی سوچا ہی نہیں کہ کیا چیز کھا گئے ہیں۔جگر کے اندر اتنا عظیم الشان Pharmaceutical کام ہو رہا ہے یعنی کیمیات کا ایک کارخانہ نہیں بلکہ بیسیوں کارخانے قائم ہیں بلکہ سینکڑوں کہنا بھی غلط نہیں ہو گا جو کیمیا کے باریک سے باریک فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسانی ضرورت کی کیمیا کو پیدا کرتی ہیں اور باقی جس کو وہ Reject کرتی ہیں ان کو جسم سے نکالنے کا اور باہر پھینکنے کا الگ انتظام خدا تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہوا ہے۔تو یہ ایک جگر ہے جو اپنی جگہ کام کر رہا ہے پھر دوسرے گلینڈز (Glands) ہیں جو اسی قسم کے کام کر رہے ہیں۔پھر خون کا گودا ہے جس کو آپ کہتے ہیں بلڈ کینسر ہو گیا کسی بیچارے کو۔وہاں فرق یہ ہوتا ہے کہ گودے نے وہ کام کرنا چھوڑ دیا ہے یا غلط رنگ میں اس نے پروڈکشن شروع کر دی ہے۔بجائے اس کے کہ صحت مند وجود میں انہضام شدہ انرجی کو یعنی طاقت کو بنائے وہ اس رنگ میں خام کام کرتا ہے کہ وہ توانائی جو جسم میں داخل ہوئی ہے وہ ہڈیوں کے گودے سے بھی زہر بن کر ہی نکلتی ہے۔اس لئے خدا کے بنائے ہوئے قانون پر اگر غور کریں ہرا لگ الگ قانون، Osmotic Pressure کا قانون ہے وہ ایک الگ پیغام آپ کو دے رہا ہے اور انہضام کا قانون ہے وہ ایک الگ پیغام آپ کو دے رہا ہے۔ہر پیغام میں آپ ڈوب کر دیکھیں تو آپ کو بڑی بڑی گہری حکمتیں اس میں کارفرما دکھائی دیتی ہیں۔تو چونکہ یہاں دو نظاموں کے ملنے کا سوال ہے اس لئے دو قانون خاص طور پر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔سب سے پہلے یہ کہ آپ نے لازماً ان میں سرایت کرنا ہے۔اس پہلو سے آپ کا مزاج لطیف ہونا چاہئے۔اگر آپ کا مزاج کثیف ہوا یہ قومیں آپ کو ر ڈ کر دیں گی یہ قانون قدرت ہے اور مزاج کی لطافت سے مراد یہ ہے آپ کے اندر اخلاق ایسے لطیف ہوں کہ نفرت کرنے والوں کے