خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 405

خطبات طاہر جلد ۸ 405 خطبه جمعه ۱۶ جون ۱۹۸۹ء اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں کی حفاظت اور بقاء کے لئے پہلے اپنے آپ کو اسلامی اخلاق سے مزین کرنا ضروری ہے ( خطبه جمعه فرموده ۶ ارجون ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :۔ سورہ رحمن میں ایسے دو سمندروں کا ذکر ملتا ہے جن کے درمیان ایک ایسی برزخ ہے جس نے ان دونوں کو جدا کر رکھا ہے لیکن جن کے متعلق قرآن کریم نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ وہ ایک دن آپس میں ملنے والے ہیں۔ اس دو سمندروں کا ذکر دوسری جگہوں پہ بھی ملتا ہے اور قرآن کریم کے بیان کے مطابق ان دونوں سمندروں کے پانی کا مزہ مختلف ہے۔ ایک کا کڑوا ، کسیلا اور زہریلا مزا اور ایک میٹھے پانی کا سمندر ہے۔ جہاں تک واقعاتی دنیا کا تعلق ہے اگر چہ یہ کہا جاتا ہے کہ ظاہری طور پر بھی یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی میٹھے پانی کا سمندر میرے علم میں نہیں اور میرے خیال میں کسی اور انسان کے علم میں بھی نہیں۔ پانی سمندر کے کڑوے ہی ہوا کرتے ہیں۔ کچھ کم کڑوے کچھ زیادہ کڑوے اس لئے قرآن کریم نے جن دو سمندروں کا ذکر کیا ہے اس سے انسانی سمندر مراد ہیں اور تہذیبی سمندر مراد ہیں اور مذہبی سمندر مراد ہیں اور قرآن کریم نے انصاف کی نظر سے دونوں کی خوبیوں کا بھی ذکر فرما دیا۔ فرمایا کہ ایک سمند ر کھارا ہے، کڑوے پانی کا ہے لیکن اس میں بھی تم موتی اسی طرح پاؤ گے جس طرح میٹھے پانی کے سمندر میں تم موتی پاتے ہو۔ وہاں بھی خوراک کے سامان ویسے ہی ہیں اور مچھلیاں بھی ہیں اور دیگر انسانی ضرورت کی مفید چیزیں ہیں جس