خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 36

خطبات طاہر جلد ۸ 36 خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء سیاست میں بالعموم صرف پاکستان ہی کی بات نہیں بلکہ تمام دنیا میں وہ ممالک جو بھی ترقی پذیر ہیں ان کی سیاست میں یہ ایک مشترک رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ سیاست خود غرض ہے اور بسا اوقات اصولوں کے سودے بھی کر لیتی ہے۔جہاں تک دیانت اور اخلاق کے اعلیٰ تقاضوں کا تعلق ہے سیاست دنیا میں کہیں بھی ہو وہ ان سے بے بہرہ ہوتی ہے۔خواہ وہ مغرب کی سیاست ہو، خواہ مشرق کی ، خواہ شمال کی ، خواہ جنوب کی آپ کو کہیں بھی سیاست میں اعلیٰ اخلاقی اقدار دکھائی نہیں دیں گی۔اس لئے جو چیز جہاں مل نہیں سکتی وہاں اس سے توقع نہیں رکھنی چاہئے لیکن ایک فرق بہر حال ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ مغربی ترقی یافتہ ممالک میں کسی دباؤ کے تابع بھی اصولوں کے سودے نہیں کئے جاتے اور بار ہا آپ کو ایسے سیاسی رہنما دکھائی دیں گے جو پورے طاقت کے عروج میں ہوتے ہوئے بھی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں مگر کسی قیمت پر بھی اصولوں کے سودوں پر تیار نہیں ہوتے۔یہ نظارے آپ کو مشرق میں دکھائی نہیں دیں گے۔یہ ہماری بدقسمتی ہے۔سوائے ایک تاریخی موقع کے جبکہ سیاست کے میدان میں ایک ایسا روشنی کا سورج اُبھرا تھا جو سیاستدان نہیں تھا لیکن ایک با اصول اور سچا قوم کا ہمدرد انسان تھا یعنی قائد اعظم۔قائد اعظم کو بعض لوگ یعنی خصوصا مغربی ناقدین جب اپنی سیاست کی عینکوں سے دیکھتے ہیں تو ان میں انہیں نہرو کے مقابل پر ان کو بہت سی خامیاں دکھائی دیتی ہیں۔بہت سی جگہ پر وہ سمجھتے ہیں کہ ایک اچھا سیاستدان ہوتا تو لچک دکھاتا، نرمی اختیار کرتا، کچھ رستہ بدل کر چلتا لیکن یہ کیسا سیاستدان ہے جس کی اتنی عزت کی جاتی ہے اور اس کے باوجود جہاں کہیں بھی سیاست کی آزمائش ہوئی وہاں اس نے اپنے اصولوں کے مقابل پر وقتی مفاد کو ٹھکرا دیا اور کسی قسم کی نرمی نہیں دکھائی جبکہ ہر موقع شناس ایسے مواقع پر نرمی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اس لئے قائد اعظم کو ایک سخت اکھڑ انسان کے طور پر پیش کرتے ہیں جس کو حالات نے بنادیا حالانکہ یہ تجزیہ بالکل غلط ہے اور غیر درست ہے۔قائد اعظم اتنے با اصول انسان تھے کہ ایک موقع ایسا بھی ان کی زندگی میں آیا جب وہ کانگریس سے مایوس ہوئے اور مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈال کر انہوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ سچائی کی خاطر تلخی کی راہوں پر قدم نہیں مار سکیں گے اور ہر طرح میرا ساتھ نہیں دے سکیں گے تو انہوں نے سیاست سے کلیہ کنارہ کشی اختیار کر لی اور جیسے بعض دفعہ بچے روٹھ جاتے ہیں اس طرح یہ بالغ نظر انسان روٹھ کر انگلستان میں آکر بیٹھ گیا اور تمام دوستوں اور مداحوں کو یہ واضح اطلاع دے دی کہ آج کے بعد میں ہندوستان کی