خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد ۸ 400 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء ہوئی۔پنجاب اسمبلی میں بحث کے دوران خواجہ یوسف نے کہا کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کے موقع پر دعوی کیا تھا کہ وہ بازیاب ہوئے تو میں پھانسی چڑھ جاؤں گا۔ایک اور نشان کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ایک غیر احمدی اسمبلی کے ممبر نے۔اب یہ خدا نے اس کے دل میں ڈالی ہے بات ورنہ کسی کو اس ماحول میں کیسے جرات ہوئی کہ احمدیوں کی تائید میں ایسی بات ایسی جرات سے کرے۔کہتا ہے کہ اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بازیاب ہوئے تو میں پھانسی پر چڑھ جاؤں گالیکن وہ اس وعدے پر پورا نہ اترے اسی لئے زیر بحث معاملہ میں بھی ان کے دعوی کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔یہ زیر بحث معاملہ کیا تھا ؟ سنیئے ! وہ کہتے ہیں قادیانی جماعت کے سر براہ مرزا طاہر احمد نے ایک من گھڑت خبر کو بنیاد بنا کر اپنے خطبہ جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء سے قبل میرے قتل کی پیشگوئی کی ہے اور میں تحریک استحقاق پیش کرتا ہوں۔تو وہ ہے تو جھوٹا ہی آپ جانتے ہیں۔یعنی خدا نے اسمبلی کے ممبروں سے اس کا جھوٹ ہونا ثابت کر وایا حالانکہ ان کو علم نہیں تھا کہ یہ جھوٹا ہے لیکن کیسا عمدہ استدلال کیا اس نے کہ یہ شخص اتنا جھوٹا ہے کہ کہتا تھا اسلم قریشی کو مرزا طاہر احمد نے قتل کروا دیا اور اگر وہ زندہ ثابت ہو جائے ، نکل آئے دوبارہ تو بر سر عام میں پھانسی چڑھ جاؤں گا پھر ابھی تک زندہ ہے سامنے بیٹھا ہوا ہے۔اتنا جھوٹا شخص اس کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔تو لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ تو پڑ گئی۔پھر ان کے متعلق ایک مولوی صاحب نے بیان دیا علامہ سید زبیر شاہ صاحب بخاری ۲۹ اپریل ۱۹۸۹ء کو مساوات میں یہ اعلان شائع ہوا ان کی طرف سے کہ منظور چنیوٹی عملاً اسمبلی کی رکنیت کھو چکے ہیں اب وہ صرف چنیوٹ کے کھال فروش قصاب کے سوا کچھ نہیں ہیں۔جو اپنی عزتوں کے اتنے دعوے کیا کرتا تھا کہ میں سارے پاکستان کا مولوی ہوں اور درباروں تک میری رسائی ہے، اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے۔پھر جو کہتا تھا کہ میں حملہ کرواؤں گا خود اس کو تسلیم ہے کہ میں نے نہیں کروایا مگر خدا کی تقدیر نے حملہ ضرور کروا دیا اس پر اور روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ نومبر ۱۹۸۸ء کی خبر ہے۔منظور چنیوٹی پر قاتلانہ حملہ بیٹا اور بھتیجا زخمی۔مولانا کے اظہار دعوت ارشاد پر مخالفین کی فائرنگ اور پتھراؤ۔چنیوٹی کے لڑکے ثناء اللہ اور بھتیجے امیر حمزہ کو قاضی صفدر علی کے حامیوں نے کافی مارا پیٹا۔کوئی اشتباہ بھی کسی کے ذہن میں پیدا ہوا نہ مقدمہ میرے خلاف درج کروانے کی اس کو توفیق ملی اور واقعہ جو اس کے منہ سے بات نکلی تھی وہ خدا نے اس طرح پوری کی کہ