خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد ۸ 394 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء کوششوں میں بڑھ رہے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو لازماً بد انجام تک پہنچائے گا لیکن اسی رات یہ عجیب رویا میں نے دیکھی کہ وہ تفصیل آپ جانتے ہیں صرف خلاصہ اس کا یہ ہے کہ خدا کے غضب کی چکی جس طرح پہلے دشمنوں کو پیستی رہی ہے اس طرح لازما اب بھی چلے گی اور کوئی دنیا کی طاقت اس قانون کو روک نہیں سکتی۔جو دشمنوں کے ساتھ خدا کے سلوک کی تاریخ آپ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں وہ آج بھی دہرائی جائے گی۔چنانچہ اس رؤیا سے جرات پاتے ہوئے اور یقینی طور پر اس کی یہی تعبیر سمجھتے ہوئے کہ چونکہ ضیاء صاحب میرے ذہن میں تھے اور خطبے کا موضوع بننے والے تھے اس لئے ان کے متعلق ہی ہے میں نے کھل کر آپ کے سامنے ذکر کیا کہ اب خدا کی تقدیر سے یہ شخص بچ نہیں سکتا اور لازماً وہ جاری وہ ہو گی۔چنانچہ دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز یہ نشان دکھایا۔۱۲ اگست کا یہ خطبہ ہے اور سترہ تاریخ کو وہ ایک دھماکے کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹادیئے گئے۔بعد ازاں میں نے پرانے احمدیوں کی بھیجی ہوئی رؤیا کے رجسٹر کا مطالعہ کیا اور وہ مضمون بہت ہی دلچسپ ہے وہ انشاء اللہ بعد میں کسی وقت یا بیان کروں گا یا وہ شائع کر دیا جائے گا۔حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو اسی انجام کے متعلق پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ایک خاتون نے لکھا کہ میں نے دیکھا کہ ضیاء صاحب آسمان کی طرف اُٹھتے ہیں اور ایک غبارے کی طرح پھٹ کر تباہ ہو جاتے ہیں۔اب ایک آدمی کے عام تصور میں یہ بات نہیں آتی کہ آسمان کی طرف اٹھے اور غبارے کی طرح پھٹ کر تباہ ہو جائے اور بالکل ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔ایک شخص نے رویا میں دیکھا کہ شیخ مبارک احمد صاحب امریکہ والے جو آج کل امریکہ میں ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ ضیاء کا جہاز ہوا میں تباہ ہو جائے گا اور یہ ساری رؤیاء پہلے لکھ کر انہوں نے بھیجی ہوئی ہیں۔ایک شخص نے لکھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے واضح طور پر خبر دی جائے کہ ۱۹۸۸ء کا سال ضیاء کے انجام کا سال ہے۔پس اور بھی اب میں مطالعہ کروا رہا ہوں رجسٹروں کا۔ان کی تاریخیں خط کس تاریخ کو ملے کون کون صاحب ہیں ساری پتا جات کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے ازدیاد ایمان کے لئے اور دنیا کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنانے کی خاطر انشاء اللہ ان چیزوں کو شائع کر دیا جائے گا۔اب میں ایک ایسے شخص کا ذکر کرتا ہوں جس کے انجام کی جماعت احمد یہ انگلستان گواہ ہے اور یہ بھی ایسا انجام ہے جو اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کا گہرا مباہلے سے تعلق ہے۔ضمنا میں