خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد ۸ 391 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء Spontaneous خود بخود بے اختیار کیا ہوتا ہے؟ کیا واقعی اس نے کچھ ورثے میں یہ حاضر جوابی پائی بھی ہے کہ نہیں۔تو جب سب نے اپنی اپنی پلیٹیں الٹائیں اس نے دیکھا کہ پلیٹ میں جوتی ہے تو بے اختیار رو پڑا۔انہوں نے پوچھا کیا ہوا ہے؟ کہتا ہے آپ دودو میرے لئے ایک۔بڑا ظلم ہے یعنی تم دو دو جوتیاں کھاؤ اور میں ایک۔تو یہ حاضر جوابی جو ہے وہ اس کے خون میں آچکی تھی۔تو آپ کے خون میں نیکیاں آجانی چاہئیں۔وہ نیکیاں جو ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے خاندانوں کا حصہ اور طرہ امتیاز بن جائیں۔وہ احمدیت کا نشان بن جائیں اور امتیازی شان احمدیت ان نیکیوں کے ذریعے دنیا میں ظاہر ہونے لگے۔یہی میری دعا تھی ، اس دعا کو خدا نے بڑی شان کے ساتھ، بڑے وسیع پیمانے پر قبول فرمایا ہے لیکن ابھی بہت سفر باقی ہے اور ابھی بہت سی کمزوریاں ایسی ہیں جنہیں ہمیں گرانا ہے اپنے وجود سے اور بہت سی نیکیاں ہیں جنہیں داخل کرنا ہے اور سینے کے ساتھ لگانا ہے اس لئے میں جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مباہلے کے سال کی برکتوں کو دائمی کرنے کی کوشش کریں۔اس عرصے میں خصوصاً ان علاقوں میں جو ہماری مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں اور ان علماء کے دائروں میں جہاں احمدیت پر بے حد گندا چھالے گئے ، جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب میں ہر حد اعتدال سے تجاوز کیا گیا اور انتہائی بے باکی سے آپ پر ناپاک حملے کئے گئے۔اتنی بدیاں پھیلی ہیں اس عرصے میں، اتنی بدامنی ہوئی ہے، اتنے فساد بڑھے ہیں ،اس طرح گھر گھر کا، گلی گلی کا امن اُٹھ گیا ہے کہ جو پاکستان جاتا ہے وہ اس بات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور خوفزدہ ہو کر واپس آتا ہے۔بعض لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ جس پاکستان کو آپ چھوڑ کر آئے تھے اس کا خیال بھول جائیں۔اب ایک اور جگہ ہے وہاں جہاں درندگی ہے، جہاں وحشت ہے، جہاں خود غرضی ہے، جہاں مستقبل پر اعتماد اُٹھ چکا ہے اور اخبارات میں ایسے روز مرہ واقعات چھپتے رہتے ہیں جن کو پڑھ کر آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ وہ ملک جو ساری دنیا میں اپنے اسلام کا ڈنکا بجارہے ہیں اور یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتا کہ ہم اسلام کے مجاہد ہیں، ہم اسلام سے محبت کرنے والے ہیں وہاں اس قسم کی بدیاں اس کثرت کے ساتھ پھیل رہی ہوں۔ڈرگز ہیں تو وہ ہاتھ سے بے قابو ہوتی جارہی ہیں اور دوسری بدیاں ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے یہ خبر بھی شائع ہوئی اخبارات میں جس کی کوئی تردید