خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد ۸ 390 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء ضائع کرنے والی بات ہے۔آپ یہ کوشش کریں کہ ان نیکیوں کو جن کو آپ نے اختیار کیا ہے نہ صرف ان کو صبر کے ساتھ پکڑ کر بیٹھیں اور ہر گز ضائع نہ ہونے دیں بلکہ ان نیکیوں کا ایک اور فائدہ اٹھائیں کیونکہ کہا جاتا ہے اور تجربہ یہی ہے اور قرآن کریم کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نیکیاں دوسری نیکیوں کو پیدا بھی کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر بار ہا جماعت کو نصائح فرما ئیں اور الفضل میں عام طور پر جو آج کل اقتباسات شائع ہورہے ہیں ان میں بھی ایک اسی مضمون سے تعلق رکھنے والا بہت ہی عمدہ اقتباس شائع ہوا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متوجہ فرمایا کہ بدیاں بھی بدیاں پیدا کرتی ہیں، نیکیاں بھی نیکیاں پیدا کرتی ہیں۔بہت کم بدیاں ہیں جو لا ولد ہوں اور بہت کم نیکیاں ہیں جو لا ولد ہوں۔جس طرح انسانوں میں بعض بانجھ ہوتے ہیں اور بعض صاحب اولا داسی طرح نیکیوں کا حال ہے۔بعض نیکیاں بڑی صاحب اولاد ہوتی ہیں اور بعض بدیاں بھی بڑی صاحب اولاد ہوتی ہیں اور اس کے برعکس بھی نظارے دیکھنے کو آتے ہیں۔اس لئے اب آپ نیکیوں کو بڑھانے کی طرف متوجہ ہوں اور ان نیکیوں کی توفیق سے مزید توفیق خدا سے مانگیں کیونکہ اصلاح کا تو کوئی کنارہ نہیں ہے۔یہ ایک ایسا نظام ہے جس کو ہم روز مرہ کی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔مثلاً آپ نے دیکھا ہو گا ہمارے ملک میں قوموں کے ساتھ بعض مزاج منسلک کر دیئے گئے ہیں کہ یہ میراثی ہے اس میں مزاح ضرور ہوگا ، یہ فلاں قوم سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس میں فلاں خصلت ہو گی۔قومی طور پر اسلام کسی کی برتری کو تسلیم نہیں کرتا لیکن بعض قومی عادات ہمارے مشاہدے میں آتی ہیں کہ واقعہ ان میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ ایک مسلمان بادشاہ کے ساتھ اس کے وزیر نے اسی مضمون پر گفتگو کی اور بادشاہ اس بات کا قائل نہیں تھا کہ خاندانوں کی بعض عادات ورثہ میں آجاتی ہیں اور وزیر اس بات کا قائل تھا کہ ہاں یہ مشاہدہ ہے اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔چنانچہ تجربے کے طور پر انہوں نے اس زمانے میں جو بھی حاضر جواب وہاں کی قوم تھی اور مزاح میں مشہور تھی ان کا ایک بچہ شروع ہی سے ماں باپ سے الگ کر دیا اور بالکل مختلف ماحول میں اس کی پرورش کی۔جب وہ بڑا ہو گیا اور کچھ ہوش مند ہوا تو کھانے پر بیٹھے ہوئے سب کے سالن جو بھی پلیٹوں میں تھے ان پر پلیٹیں الٹا کر رکھی ہوئی تھیں تا کہ کوئی مکھی یا کوئی اور چیز نہ آ پڑے۔اس کی پلیٹ میں ایک جوتی رکھ دی گئی۔یہ دیکھنے کے لئے کہ اس کا رد عمل