خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد ۸ 389 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء چھوڑنے اور نیکیاں اختیار کرنے کی توفیق ملی ہے کہ اس سے پہلے شاذ کے طور پر بھی کبھی ایسا واقعہ ہوا ہو۔مختلف وقتوں میں خلفاء کی تحریک پر جماعتیں اصلاح کی طرف متوجہ ہوتی ہیں مگر ایک عالمگیر حیثیت سے کہ تمام دنیا میں ہر ملک میں ، ایک سو بیس ممالک میں یہ توجہ بڑی نمایاں شان کے ساتھ بیدار ہوئی ہو اور اس کا گہرا اثر دور دور تک مردوں ، عورتوں اور بچوں پر پڑا ہو۔یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے اور خدا کی غیر معمولی توفیق کے بغیر ہو ناممکن نہیں ہے۔میں نے کئی دفعہ ان علماء کو چیلنج کیا ہے کہ بھئی! اگر تم نیکی کے علمبردار ہو اور واقعی اسلام سے محبت رکھتے ہو تو ایک شہر کو چن لو پاکستان میں چنیوٹ لے لو، فیصل آباد لے لو اور ساری قوتیں وہاں مجتمع کر لو اور وہاں سے برائیاں دور کرنے کی کوشش کرو۔یہ مقابلہ ہے، یہ مسابقت کی روح ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔پھر دیکھو کہ خدا تمہیں توفیق عطا فرماتا ہے یا ہمیں توفیق عطا فرماتا ہے۔کہاں یہ کہ ساری دنیا میں ایک سو بیس ممالک میں پھیلی ہوئی ہزار ہا بلکہ لاکھوں بستیوں میں پھیلی ہوئی جماعت کو خدا تعالیٰ یہ توفیق بخشے کہ ہر جگہ خدا اصلاح کے کرشمے دکھائے، اصلاح کے معجزے دکھائے۔پس خدا کا یہ بہت عظیم الشان احسان ہے مگر میں جماعت احمدیہ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اصل معجزہ اصلاح کا معجزہ ہی ہوا کرتا ہے۔میں دوسری قسم کے معجزے کا بھی ذکر کروں گا لیکن آپ یاد رکھیں کہ سب سے بڑا معجزہ دنیا میں صداقت کے ثبوت کے لئے اصلاح کا معجزہ ہوا کرتا ہے۔باقی ساری باتیں آنے جانے والی ہیں، باقی ساری باتیں وقت کے تماشے ہیں یا ایک وقت میں ایمان افروز باتیں ہی ہیں لیکن ان کی حیثیت ایک وقتی ہے، ایک عارضی حیثیت ہے۔وہ آتی ہیں دل پر نیک اثر چھوڑ کر چلی جایا کرتی ہیں لیکن نیکیوں کو خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیشہ البقيتُ الصُّلِحُتُ (الکہف: ۴۷ ) کے طور پر پیش فرماتا ہے۔جو نیکیاں آپ نے اختیار کر لیں وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے نہ صرف آپ کے وجود کو سنوار گئیں بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہونی شروع ہو جائیں گی اور اگر نسلاً بعد نسل کسی قوم کو نیکیاں اختیار کرنے کی توفیق ملے تو وہ عادتوں کا حصہ بن جایا کرتی ہیں اور پھر وہی ہیں جو Genetic Symbols میں منتقل ہو جاتی ہیں اور خدا نے جو نظام وراثت کا قانون بدن کے اندر جاری فرمایا ہے اس نظام وراثت کا حصہ بن جایا کرتی ہیں۔اس لئے اس سال کی نیکیوں کو اس سال کے آخر پر بھلا نا نیکی نہیں ہے بلکہ سارے ماحصل کو