خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد ۸ 386 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء میں خوب تمیز ہو جائے اور حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر ہو اور ظالم اور مظلوم کی راہیں جُد اجد ا کر کے دکھائی جائیں اور ہر وہ شخص جو تقویٰ کا بیج اپنے سینے میں رکھتا ہے اور ہر وہ آنکھ جو اخلاص کے ساتھ حق کی متلاشی ہے اس پر معاملہ مشتبہ نہ رہے اور ہر اہل بصیرت پر خوب کھل جائے کہ سچائی کس کے ساتھ ہے اور حق کس کی حمایت میں کھڑا ہے۔(آمین یا رب العالمین ) (مباہلہ کا کھلا کھلا چیلنج صفحہ ۱۵،۱۴) اس ضمن میں مزید بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک اور وضاحت بھی ضروری ہے کہ دعا میں انسان کبھی کوئی کمی نہیں رکھتا اور دعا مانگتے ہوئے خدا تعالیٰ پر حدیں قائم نہیں کیا کرتا۔اسی لئے جب میں یہ دعا تحریر کر رہا تھا تو با وجود اس کے کہ میرا ذہن بار بار اس طرف گیا کہ ایسی دعا مانگنا کہ ہر احمدی کے ساتھ یہ سلوک ہو، ہر احمدی بچہ ، بوڑھا، جوان نیک ہو جائے اور تمام مصیبتیں دور ہو جائیں یہ میں اپنے آپ کو باندھ رہا ہوں اور دشمن کو اعتراض کا موقع مہیا کر رہا ہوں اور خدا کی تقدیر کو بظاہر گویا مجبور کر رہا ہوں کہ وہ ہم سے ایسا سلوک کرے جو اس سے پہلے کبھی دنیا میں کسی سے سلوک نہیں ہوا۔اس کے باوجود میں نے یہ عبارت تحریر کی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے مجھ پر یہ بات روشن تھی کہ انبیاء نے دعاؤں میں کنجوسی نہیں کی اور کمی نہیں کی اور خدا نے قبولیت کے وقت اپنی قدرت کا نشان دکھایا ہے، اپنی مالکیت کا ثبوت دیا ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا دیکھیں اور خصوصیت سے وہی دعا میرے پیش نظر تھی کہ اپنی اولاد کے لئے قیامت تک کے لئے یہ دعا کی کہ وہ سارے نیک اور پارسا ہوں کوئی بھی ان میں بد نہ نکلے اور پھر ان کو آئمہ بنا اور پھر ان کے ساتھ یہ سلوک فرما۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا لَا يَنالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرہ: ۱۲۵) اے ابراہیم تو مجھے بہت پیارا سہی ، ساری کائنات کا آج تو خلاصہ ہے اور یہ فقرہ میں نہیں کہہ رہا خدا تعالیٰ نے آپ کو امت کہہ کر یہی بیان فرمایا کہ تو ایک ہوتے ہوئے امت ہے۔یعنی اس وقت ساری کائنات کا خلاصہ تو ہے۔پھر بھی میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔چنانچہ اسی لئے میں جماعت کو اس سال کے دوران اس دعا کے باوجود یہ نصیحت کرتا رہا کہ ہوش سے قدم اٹھائیں۔اگر اس سال میں انہوں نے اپنی برائیاں دور کرنے کی کوشش نہ کی اور بدیوں پر قائم