خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد ۸ 387 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء رہے تو خدا کی تقدیر ان کو معاف نہیں کرے گی۔اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں، چونکہ مباہلے کی دعاسب پر حاوی دکھائی دیتی ہے اس لئے وہ جو چاہیں کریں اُن سے کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی۔یہ وجہ تھی جو میں نے دعا میں بظاہر اپنے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔کیونکہ میرا تو کل خدا پر تھا اور دعا خدا سے مانگ رہا تھا اور سنت انبیاء مجھے یہی دکھا رہی تھی کہ دُعا میں کامل ہو جاؤ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل جتنا بھی نازل ہو اس کو خوشی سے قبول کرو اور تسلیم رضا کے ساتھ اس پر راضی ہو جاؤ۔پس یہ ہے اس کا پس منظر لیکن جہاں تک حالات کے فرق ہونے کا تعلق ہے۔حالات کے جدا جدا ہونے کا تعلق ہے یا جدا جدا کر دکھانے کا تعلق ہے، یہ ایسا مضمون ہے جس میں کوئی اشتباہ باقی نہیں رکھا کرتا اور کوئی اشتباہ باقی نہیں رہا۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، اتنی برکتیں نازل ہوئی ہیں اس دور میں کہ دنیا کا ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں احمدیوں کو نمایاں طور پر یہ احساس نہیں ہوا کہ ہاں ہم ایک نئے وجود کے طور پر ابھر رہے ہیں اور جہاں غیروں نے ان کے ساتھ پہلے سے بہت بڑھ کر محبت اور تعظیم کا سلوک نہیں کیا اور وہ ممالک جہاں ان کو پوچھتا بھی کوئی نہیں تھا، وہاں بڑے بڑے لوگوں کی ، اخبارات کی، ٹیلی ویژنز کی ، ریڈیوز کی توجہ ان کی طرف مبذول ہوئی اور حالات پلٹ گئے۔ابھی کل ہی کی بات ہے مشرقی افریقہ سے ایک دوست تشریف لائے جو آج خطبے میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں قریشی عبدالمنان صاحب وہ اخبارات کے تراشے لائے اور کچھ اصل اخبارات لائے اور مجھے بتایا کہ ہمارے آنے سے قبل یعنی اسی سال جواس ملک کے حالات تھے ، جو احمدیوں کی وہاں عزت تھی یا احمدیوں سے تعارف تھا لوگوں کو کہتے ہیں اس کا حال آپ نے خود دیکھ لیا تھا ایک مجلس میں جب ایک بہت ہی معزز اور معروف جج نے منصف نے آپ کو یہ کہا کہ میں نے تو پہلے احمدیت کا کوئی ذکر نہیں سنا اور آج یہ حال ہے کہ ملک کا بچہ بچہ احمد یت کو جانتا ہے۔اخبارات میں تشہیر ہوئی اور ایسی زبر دست اتنی خوبصورت۔حضرت مسیح موعود علیہ ا والسلام کی تصاویر خلفاء کی تصاویر نہایت ہی عمدہ رنگ میں دے کر اور بہت بڑے بڑے پوسٹرز کی صورت میں اخبارات میں احمدیت کے متعلق یہ اعلانات شائع ہوئے اور پھر ریڈیو نے بھی وہ باتیں سنائیں دنیا کو اور ٹیلی ویژن نے بھی بلکہ پورا پیغام جو میں نے دیا تھا وہ بھی پڑھ کے سنایا۔تو یہ عجیب الصلوة اللہ کی شان ہے کہ مباہلے کا سال وہی مقرر فرمایا جو جماعت احمدیہ کا نئی صدی میں داخل ہونے کا سال