خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 381 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 381

خطبات طاہر جلد ۸ 381 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء تجربہ کر چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں خدا کے فضل سے غیر معمولی کامیابی بھی ہمیں نصیب ہو چکی ہے۔غانا کے متعلق آپ کو یاد ہوگا کہ ایک وقت تھا جب قحط عام ہوتا چلا جارہا تھا، خشک سالی تھی، بارشوں کے کوئی آثار نہیں تھے ، دن بدن لوگ بھوک کا شکار ہورہے تھے اور خیال تھا کہ جس طرح سوڈان کے بعض حصوں میں یعنی ابی سینیا وغیرہ میں نہایت خوفناک قحط پھیلے ہیں وہاں بھی قحط پھیل جائے گا۔قحط تو پھیلا ہوا تھا اور بڑھ جائے گا۔اس وقت وہاں کے امیر نے مجھے خاص طور پر دعا کی تحریک کی اور میں نے خطبے میں ربوہ میں غانا کے لئے خصوصیت سے دعا کی تحریک کی اور عجیب بات ہے کہ اس کے قریباً ہفتہ یا دس دن کے بعد مجھے خط ملا امیر صاحب کا کہ جہاں تک موسموں کے پنڈتوں کا تعلق ہے انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بارش کے آثار نہیں ہیں بلکہ سارا سال خشک سالی کا سال گزرے گا لیکن جس وقت آپ وہاں خطبہ دے رہے تھے اس وقت اچانک بادل اُٹھے ہیں اور اس زور سے بارش ہوئی تھی کہ جل تھل ہو گیا اس بارش سے اور اس دن کے بعد سے غانا کے حالات تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔تو ہمارا خدا قادر مطلق خدا ہے۔اسی طرح وہ اپنے وجود کا ثبوت عطا فرماتا ہے۔پس آپ اگر سنجیدگی سے دعائیں کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تعالی سیرالیون کے حالات بھی تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گے۔