خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 377

خطبات طاہر جلد ۸ 377 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء جائیں فرض کریں تو ہمارا نظام تو ہے ہی اس بات پر کہ خدا دیکھ رہا ہے۔وہی بات جس سے میں نے آغا ز کیا تھا اسی پر ختم کرتا ہوں۔خدا ہمہ وقت ہمیں دیکھ رہا ہے اس سے چھپنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ہم خدا کی خاطر سارے منصوبے بناتے ہیں، خدا کی خاطر ان پر عمل درآمد کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے اس تصور کو ہمیشہ زندہ رکھیں ، اس احساس کو ہمیشہ زندہ رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے تمام فرائض کو بہترین رنگ میں پورا کرنے کی توفیق عطا فرما تا چلا جائے گا۔آخر پر ایک دعا کی تحریک کرنا چاہتا ہوں۔آپ کو علم ہے کہ ہمارا مباہلے کا سال قریباً قریب الاختتام ہے اس پہلو سے کہ ۱۰ جون جمعتہ المبارک کو میں نے تمام دنیا کے مکذبین اور مکفرین کے آئمہ کو یعنی ان میں سے جو چوٹی کے سربراہ ہیں ان کو چیلنج دیا تھا۔ان میں سے بعض نے قبول کیا، بعض نے نہیں کیا اور جنہوں نے قبول کیا انہوں نے شرطیں ایسی لگا دیں کہ عملاً نہ قبول کرنے کے مترادف تھا۔بعضوں کو خدا نے پکڑا اور عبرت کا نشان بنا دیا، بعض ابھی باقی ہیں لیکن اس مضمون پر میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں روشنی ڈالوں گا۔کیونکہ وہ 9 تاریخ کا خطبہ ہو گا یعنی اس وقت سال پورا ہو چکا ہوگا۔جو سال دس کو شروع ہو وہ نو کو پورا ہوتا ہے اور نو کو بھی جمعہ ہے اس لئے انشاء اللہ اس وقت مختصراً کوشش کروں گا کہ عمومی تبصرہ کروں کہ اس سال میں کیا ہوا اور آئندہ کیا ہونا ہے؟ کیونکہ بعض لوگوں نے چیلنج دیر سے قبول کیا۔جہاں تک میرا اور جماعت کا تعلق ہے اس سال میں خدا نے ہم سے کیا سلوک کیا وہی نشان بنے گا ہماری صداقت کا اور کیا کیا خدا کی رحمتیں اور عنایات نازل ہوئیں، ہم کس حد تک سچائی کے قریب گئے ہیں اصل تو یہ نشان ہے مباہلے کی کامیابی کا۔تو یہ میں مختصر روشنی ڈالوں گا پھر تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ اگر موقع ملا تو جلسہ سالانہ پر بھی گفتگو ہو جائے گی لیکن بہر حال آئندہ خطبہ میں میں یہ بیان کرنے لگا ہوں۔جو بات میں آج کہنا چاہتا ہوں اس سے متعلق وہ یہ ہے کہ ان آئندہ چند دنوں میں مخالفین علماء کی طرف سے شدید بے چینی کا اظہار ہوگا۔شدید بے اطمینانی کا اظہار ہوگا کیونکہ وہ یہ سمجھیں گے که سال گزر چکا اب چند دن رہ گئے ہیں خدا تعالیٰ نے تو ان لوگوں پر کوئی لعنت نہیں ڈالی۔بلکہ یہ ترقی کرتے چلے گئے ہیں۔اسی مباہلے کے سال میں ان کا صد سالہ جو بلی کا سال آ گیا، ساری دنیا میں ترقی ہوئی ، بے شمار خدمات کی توفیق ملی عظیم الشان خدا تعالیٰ نے ان پر رحمتیں نازل فرما ئیں اور جس