خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد ۸ 376 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء طرف سے آتی ہے۔مثلاً کل سرینگر کی طرف سے مجھے رپورٹ ملی ہے اور وہاں وہ بھی اس لحاظ سے مستعد جماعت ہے۔وہ ساتھ ساتھ مجھے بتا رہے ہیں کہ جس ہال کی منظوری لی گئی تھی وہ ان مراحل سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچ چکا ہے، اب تعمیر کا یہ کام ختم ہو گیا ہے اور کتا میں سجانے کے لئے شیلف بنائے جارہے ہیں، دوسرے فرنیچر وغیرہ کی تیاری، اس قسم کی تفصیلی رپورٹ وہ بھیجتے رہتے ہیں۔میرے علم میں رہتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے لیکن بہت سے ممالک ہیں انہوں نے اشارہ بھی نہیں کبھی کیا کہ کیا ہو رہا ہے؟ بعض باتوں میں بڑے مستعد ہیں اور بعض باتوں میں بالکل غافل ہو جاتے ہیں۔افریقہ کے کئی ممالک ہیں تبلیغ کے لحاظ سے نہایت اعلی لیکن کبھی نہیں بتایا کہ جس مرکز کی تعمیر کی ، جس نمائش کے ہال کی تعمیر کی اجازت دی تھی جس پہ بڑے بڑے اخراجات کی اجازت ملی ہوئی ہے اس کو ہو کیا رہا ہے۔اب تک کتنی کارروائی ہوئی ہے، کتنا کام آگے بڑھا؟ کچھ پتا نہیں۔تو یہ خیال نہ کریں کہ میں بھول جاتا ہوں، مجھے کچھ پتا نہیں لگتا۔اگر بھول بھی جاؤں تو آپ میں سے بعض یاد کر وا دیتے ہیں۔اس لئے خلیفہ وقت کے بھولنے کا سوال ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ ساری جماعت ایک وقت میں نہیں سوتی۔اگر دس سوئے پڑے ہیں تو ایک بیچ میں سے جاگا ہوگا اور وہ توجہ مبذول کروادیتا ہے خلیفہ وقت کی کہ میں جاگا ہوا ہوں دیکھیں باقی اور کون کون سویا ہوا ہے۔اس لئے یہ خدا نے نظام ہی ایسا قائم کر دیا ہے۔یہ ہمہ وقت نگرانی کا نظام ہے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔اس لئے یہ تو و ہم بھی نہ کریں کہ آپ کی غفلتیں اور کمزوریاں اگر آپ پردہ ڈالنا بھی چاہیں تو چھپ جائیں گی۔خدا تعالیٰ نے نظام خلافت کی یہ برکت رکھی ہے جو انشاء اللہ آئندہ عالم میں پھیلتی چلی جائے گی کہ ایک مرکزی ایسی نظر پیدا کر دی ہے جس کو روشنی دنیا بھر کی احمدی نظروں سے ملتی ہے اور وہ اپنی بصیرت سے خلیفہ وقت کو حصہ دیتے چلے جاتے ہیں۔اسی لئے میں نے ایک دفعہ آغاز ہی میں یہ خطبہ دیا تھا کہ جماعت کا مجموعی تقوی خلیفہ وقت کے تقویٰ جمع ساری جماعت کے تقویٰ پر مشتمل ہے اور یہ مجموعی طور پر خلیفہ کی ذات میں منعکس ہونے لگ جاتا ہے۔اسی طرح آپ کی بصیرت مجھ سے جدا نہیں ، میری بصیرت آپ سے جدا نہیں۔ہم سب کی مجموعی بصیرت کا نام خلافت احمد یہ ہے۔اس لحاظ سے ایک عظیم الشان نظام ہے جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں۔بڑی سے بڑی حکومتیں بھی ہوں وہاں بھی اس قسم کے بصیرت افروز نظام قائم نہیں ہیں۔پس چھپنا تو آپ نے ہے نہیں اور پھر مجھ سے چھپ بھی