خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 372
خطبات طاہر جلد ۸ 372 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء رجمان شیطان پیدا کرتا ہے اور شیطان ہر جگہ ایک ہی مزاج رکھتا ہے۔اس نے وحدت پر حملہ کرنا ہے اور اس کے لئے بڑا بہانہ ہے۔چنانچہ اسلام کی تاریخ میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے ملکوں میں جب اسلام پھیلا ہے تو یہی حملہ اسلام پر کیا گیا تھا کہ یعنی اب بھی اسلام ہی ہے لیکن اسلام کے آغاز پر بھی کیا گیا تھا اور ایرانی نے یہ سوال اٹھا دیا کہ کون سی بات اسلام ہے اور کونسی ایرانیت ہے۔کون سے مزاج اسلامی مزاج ہیں اور کون سے عرب مزاج ہیں جن کو ہم قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے، پھر ان کے خلاف بغاوت کریں گے اور کئی ایرانی مزاج اسلام میں داخل کئے گئے۔حالانکہ اگر عرب مزاج کو قبول نہیں کرنا تھا تو اس ایرانی مزاج کا کیا حق تھا کہ اسلام میں داخل ہو جاتا۔اسلام تو پھر بے مزاج کے ایک فلسفے یا بلا نظریہ حیات کے طور پر قائم رہنا چاہئے تھا لیکن یہ دوسری چیز اس کے تتبع میں ضرور آیا کرتی ہے۔جب آپ کہتے ہیں کہ پاکستانی نہیں تو پھر کوئی اور چیز اس کی جگہ ہے حالانکہ یہ بحث ہی ظالمانہ اور جھوٹی اور شیطانی بحث ہے۔ہر احمدی کا دنیا کے ہر ملک میں یہ حق ہے کہ یہ مطالبہ کرے کہ مجھے سمجھاؤ کہ کوئی چیز اسلام ہے اس کو میں قبول کروں گالازما اور مجھے یہ سمجھاؤ کہ کون سی چیز رواج ہے جو اسلام کا لازمی حصہ نہیں یہ تو ہر شخص کا حق ہے اور ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنی عادات کو اسلام کے طور پر پیش نہ کرے اور جہاں اگر یہ ایسا اختلاف پیدا ہو وہاں ضروری ہے ہر ایک کے لئے کہ وہ مرکز کو متوجہ کرے بجائے اس کے کہ یہ بخشیں اٹھائی جائیں اور ایک قوم کا مزاج خراب کیا جائے۔آسان حل یہ ہے کہ جہاں بھی اس قسم کا اختلاف ہو خواہ جرمنی میں ہو، انگلستان میں ہو، نائیجریا یا گھانا میں ہو فوری طور پر خلیفہ وقت کو لکھا جائے کہ یہ بات ہے جو مبلغ کہہ رہے ہیں اور بعض جماعت کے ممبروں کا خیال یہ ہے کہ یہ اسلام نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کا ایک پاکستانی اظہار ہے جو نائیجیرین یاغانین اظہار بھی ہو سکتا ہے یعنی اسلام کی روح سے منحرف ہوئے بغیر اسی چیز پر عمل کرتے ہوئے ہم نے ایک نائیجیرین اظہار بھی کر سکتے ہیں ، غانین اظہار بھی کر سکتے ہیں، جرمن اظہار بھی کر سکتے ہیں اور انگلستانی یعنی برٹش اظہار بھی کر سکتے ہیں۔اس سے کوئی انکار نہیں لیکن اگر تقویٰ اور صداقت شعاری کے ساتھ یہ بات پوچھ لی جائے اور بات حل کروالی جائے تو اس سے کوئی خطرہ نہیں لیکن معین بات کئے بغیر جب عمومی بخشیں آپ چھیڑتے ہیں تو اکثر لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم بات کیا کر رہے ہیں۔صرف ایک نفرت اور تفریق کے جذبات ہیں جن سے وہ کھیلنے لگ جاتے ہیں پھر وہ