خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد ۸ 370 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء سامنے آپ رُک جاتے ہیں تو یہ یقیناً شرک ہے۔اس کا کوئی جواز نہیں۔لوگوں کے سامنے رُکنا ایک طبعی حیاء کے نتیجے میں بھی ہوتا ہے اور حیاء وہیں پیدا ہوتی ہے جہاں روکا جاسکتا ہے۔روز مرہ آپ کو دیکھنے والا ہے وہاں حیاء رہتی کوئی نہیں۔بیویوں کو خاوندوں سے حیاء نہیں رہتی ، خاوندوں کو بیویوں سے حیاء نہیں رہتی لیکن وہی باتیں جب باہر نکلتے ہیں تو باعث حیا بن جاتی ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا اور بندے کا معاملہ ہے۔ایسی بے اختیاری ہے کہ انسان بے حیا تو نہیں کہہ سکتے لیکن مجبوری ہے، بے بسی ہے ، خدا کے سامنے اپنے کمزوریاں ظاہر کرنے پر انسان مجبور بنا بیٹھا ہے لیکن بندوں کے سامنے یہ بات نہیں اس لئے وہ چھپتا بھی ہے۔میں سمجھتا ہوں کمزوری کہہ لیں اس کو لیکن شرک نہیں لیکن جب اگر تصویر کے سامنے آپ چھپتے ہیں یا حیا محسوس کرتے ہیں یا تصویر کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اوہ تیرے سامنے میں بیٹھا ہوں، تو مجھے کیا کہتی ہوگی، یا میرا دل یہ کہتا ہے کہ تو یہ تھا اور میں کیا ہوں؟ تو یہ ساری باتیں شرک خفی بن جاتی ہیں جو آگے جا کے قوموں کو ہلاک کر سکتی ہیں۔اس لئے جماعت کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ تصویروں کو تصویروں کی حد تک رہنے دیں ایک ذرہ بھی اس سے زیادہ ان کو اہمیت نہ دیں اور جہاں ایک ذرہ بھی شرک کی طرف مائل کرنے والی ہوں وہاں ان تصویروں کو الگ کر دیں۔ان کا مقام پھر بند ہونے میں ہے ظاہر ہونے میں نہیں۔ان کو خاص موقعوں کے لئے ، بعض مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے رکھ لیں ورنہ ان کو نہ رکھیں۔میری تصویروں کا بھی رواج بڑھ رہا ہے مجھے اس چیز سے اس کا بھی خیال آیا کہ بعض لوگوں کے متعلق پتالگاوہ باقاعدہ اس کو سجا کے رکھتے ہیں۔نعوذ بالله من ذالك۔جو نہایت ہی بیہودہ حرکت ہے۔اس خیال سے میں پاکستان میں لوگوں کو بھیج دیتا ہوں کہ دیر ہوئی دیکھے ہوئے اور بچوں کو بھی دکھانا ہوتا ہے۔وہ ایک ایسا جذبہ ہے جو نیکی پر مبنی ہے لیکن اگر آپ اس کو ایسی اہمیت دینے لگ جائیں نعوذ باللہ کہ پھولوں میں سجا کے رکھا ہوا ہے تو نہایت ہی خطرناک مشرکانہ حرکت ہے، نہایت قابل نفرت حرکت ہے اور مجھے بھی آپ اپنے ساتھ گناہگار کرتے ہیں۔اگر میرے علم میں آئے اور میں اس کو نہ روکوں تو میں جواب دہ بن جاتا ہوں۔اس لئے جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے یہ بات کر دی ہے تو میری اور دیگر خلفاء کی پھر کوئی بھی حیثیت نہیں رہتی۔ہمارے اوپر یہ مضمون بھی اسی طرح صادق آتا ہے بلکہ حیثیت کے لحاظ سے ہماری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں۔اگر