خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد ۸ 367 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء اس جوڑ میں ان کی طرف منتقل ہو رہا ہوگا۔جیسے Blood Transfusion کیا جاتا ہے۔ایک کے خون کی رگ سے دوسرے کے خون کی رگ کا تعلق باندھ دیا جاتا ہے تو اس طریق پر آپ کی پہلی نسلوں کا پاکیزہ خون آپ کی نئی نسلوں میں دوڑنے لگے گا اور آئندہ نسلوں میں وہ پاکیزہ خون منتقل ہونے لگ جائے گا۔یہ ہم نے جو نمائش کی کوشش کی ہے یہ کوئی محض دکھاوے کا رنگ نہیں رکھتی نہ اس خاطر ایسی کوشش فائدہ دے سکتی ہے بلکہ مذہبی جماعتوں میں تو یہ بعض دفعہ ایک مہلک زہر بن جاتی ہے۔جہاں جہاں دکھاوے کا رنگ آ جائے اور روح غائب ہو جائے وہیں مذہبی جماعتوں کی ہلاکت کا آغاز ہو جاتا ہے۔اس ضمن میں ایک اور نصیحت میں جماعت کو یہ کرنی چاہتا ہوں کہ تصاویر کا دور ہے اور تصاویر کے ذریعے ہم بڑے بڑے فائدے اٹھانا چاہتے ہیں لیکن تصاویر میں بعض نقصان کے پہلو بھی ہوتے ہیں اور ان میں ایک پہلو یہ ہے کہ جو بزرگوں کی تصاویر ہیں ان کے طرف شرک کا رجحان پیدا ہو جائے اور یہ رجحانات بعض دفعہ بہت ہی باریک راہوں سے داخل ہوتے ہیں اور جب تک ایک منتقی انسان یا جب تک خدا کسی انسان کو توفیق نہ عطا فرمائے اس وقت تک وہ بعض دفعہ متنبہ ہی نہیں ہو سکتا کہ میں نے جو اس تصویر کو دیکھا، میرے دل پر جو اس کا اثر پڑا وہ تقویٰ کے مطابق تھا یا مشرکانہ رنگ رکھتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں یہی وجہ ہے کہ تصویروں کا رواج نہیں دیا گیا خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ ایجادات ہی بعد میں ہوئیں جن ایجادات کے ذریعے آج ہم تصویری زمانے میں داخل ہوئے ہیں۔آنحضرت ﷺ کا پاک وجود اور آپ کا روحانی اور نورانی چہرہ اتنی عظمت رکھتا ہے کہ ہرگز بعید نہیں تھا کہ اگر وہ تصویر میں محفوظ ہوتیں تو ان کی عبادت شروع ہو جاتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس خطرے کو محسوس کیا اور جماعت کو تاکید کی کہ میں جو تصویریں اپنی کھینچوا رہا ہوں صرف اس لئے کہ دنیا چہروں کو دیکھ کر اندازے لگایا کرتی ہے اور بعض زیرک لوگ چہروں کے نقوش پڑھ کر دل کی صداقت کے نقوش دیکھنے لگ جاتے ہیں ، ان تک ان کی نظر پہنچ جاتی ہے۔اس لئے اس غرض سے میں نے تصویر میں شائع کی ہیں، یہ مقصد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ تم لوگ ان تصویروں کو دیکھ کر میرے متعلق نامناسب عظمت کے جذبات اپنے دل میں پیدا کرو کیونکہ یہ شرک ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور پرانے