خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد ۸ 32 32 خطبہ جمعہ ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء انسان سے تعلق ہے لیکن اس کی گہرائی کے اندر در اصل خدا کا تعلق کام کر رہا ہے۔پس تمام کائنات میں جب آپ تنہا رہ گئے ہیں اور ہر دوسری چیز سے آپ نے تعلق کامل طور پر تو ڑ لیا ہے اس وقت کامل طور پر خدا آپ کا ہوا ہے اور یہ تعلق تو ڑنا اور تعلق جوڑنا ایسا مضمون نہیں ہے جو کسی وقت کے لحاظ سے ایک لمحے میں پیدا ہوا ہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا یہ مسلسل ایک سفر کی حالت کا نام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری زندگی بعض تعلقات توڑنے اور بعض تعلقات قائم کرنے کے میں گزری ہے۔اس کے بعد جب آپ کو یہ خلوت نصیب ہو جاتی ہے تو خدا کی عجیب شان ہے کہ وہ ان تعلقات کو دوبارہ عطا کرتا ہے اور آپ کو دنیا کے لحاظ سے بھی تنہا نہیں رہنے دیتا۔چنانچہ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی (النجم: ۹۔۱۰) میں یہی مضمون بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے روحانی سفر میں ایسا دنو اختیار فرما گئے اتنا قریب ہو گئے خدا کے کہ تمام دوسرے غیر اللہ تمام مخلوق سے آپ کا تعلق ٹوٹ گیا۔فَتَدَتی پھر اس کے بعد خدا کی محبت کے نتیجے میں خدا کی مخلوق کی طرف ایک نیا رجحان پیدا ہوا، ایک نیا تعلق پیدا ہوا اور وہ تعلق خدا کے واسطے سے تھا اس لئے وہ عبادت تھا۔پس خدا تعالیٰ آپ کو تنہا ر کھنے میں خوش نہیں ہے، خدا تعالیٰ آپ کی جھوٹی جلوتوں کو توڑتا ہے اور فنا کر دینا چاہتا ہے۔خدا کی خاطر آپ کو ویرانے اختیار کرنے پڑتے ہیں اور پھر خدا ان ویرانوں کو دوبارہ بساتا ہے، نئی جنتیں آپ کو عطا کرتا ہے، نئی بہاریں اور نئے جلوے آپ کو بخشتا ہے۔وہ کائنات ہے جو زندہ رہنے کے لائق ہے جو اس لائق ہے کہ آپ اسے یہ سب کچھ چھوڑ کر بھی اختیار کریں اور اس نئی کائنات کے حصول کی کوشش کر نا حقیقی اسلام ہے اور یہی وہ فرار الی اللہ ہے آخری منزل جس کی یہ ہے۔پس جماعت احمد یہ جب تک اس سفر کو اس طرح قدم بقدم اختیار کرنا نہیں سیکھے گی جس طرح میں نے سمجھایا ہے ایک فرضی چھلانگ میں آپ سارے مراحل طے نہیں کر سکتے۔اتنا بڑا کام ہے، اتنا وسیع ہے، اتنا باریک بینی کا کام ہے کہ فرار کی پہلی منزلیں ہی آپ اختیار کرنے کی کوشش شروع کریں تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ کتنا مشکل کام ہے۔گناہوں کا عرفان بڑھانا، خطروں کو پہچاننا ، ان سے خوف محسوس کرنا، ان سے نفرت پیدا کرنا دلوں میں اور خدا کی طرف دوڑنے کی کوشش