خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 362

خطبات طاہر جلد ۸ 362 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ دنیا کی ایک سو چودہ یا ایک سو اٹھارہ مختلف تراجم، مختلف تعداد میں شائع ہورہے ہیں۔بہر حال زیادہ سے زیادہ جو ہم نے ترجمے کئے ہیں اب تک وہ قرآن کریم کے اقتباسات کے ایک سو اٹھارہ زبانوں میں ہو چکے ہیں اور احادیث کے بھی کم و بیش اتنی ہی زبانوں میں ہو جائیں گے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی منتخب تحریرات کے تراجم ابھی پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ اولیت پہلے دو تراجم کو دی گئی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس سال کے اختتام سے پہلے پہلے انشاء اللہ وہ تراجم بھی کم و بیش اسی تعداد میں تمام دنیا کو مہیا کر دیے جائیں گے۔ان تراجم سے متعلق مجھے فکر یہ ہے کہ ان کے سٹاک بڑھتے چلے جارہے ہیں اور ڈھیریاں اونچی ہورہی ہیں۔حالانکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی متوجہ کیا تھا دنیا کی ضرورت اتنی ہے کہ جتنی تعداد میں ہم نے یہ تراجم شائع کئے ہیں مطالبے یہ آنے چاہئے تھے کہ اور بھیجو اور بھیجو اور بھیجو اور وہ جماعتیں جو مستعد ہیں وہ یہی مطالبے کر رہی ہیں۔چنانچہ ہندوستان سے بنگلور کی طرف سے آج ہی ایک چٹھی ملی جس میں انہوں نے وہاں کی جماعت کے ایک مستعد خدمت کرنے والے احمدی نے لکھا ہے کہ ہمیں جتنے تراجم بھیجے گئے وہ بھی کم ہیں، جتنا لٹریچر بھجوایا گیا وہ بھی کم ہے، علاقہ بہت وسیع ہے اور غیر معمولی طور پر طلب پیدا ہو چکی ہے اس لئے ہمیں کثرت کے ساتھ لٹریچر مہیا کیا جائے۔اسی طرح پرتگال کے مبلغ نے بھی یہی لکھا، بعض اور مبلغین کی طرف سے بھی اسی قسم کے مطالبے آنے شروع ہو گئے ہیں لیکن بالعموم مجھے علم ہے کہ جو لٹریچر یہاں سے بھجوایا گیا تھا اس کا بھاری حصہ بغیر تقسیم کے ابھی تک جماعتوں میں پڑا ہوا ہے اور مطالبہ آنے کی بجائے وہ یہ رپورٹ بھی نہیں بھیجتے کہ اس لٹریچر کا انہوں نے کیا کیا۔پس ان کی خاموشی ان کی زبان بن جاتی ہے اور بسا اوقات خاموشی زبان بن جایا کرتی ہے اگر دیکھنے والا غور سے ،توجہ سے خاموشی کا جائزہ لے اور اس کے پس منظر حالات کو وہ سمجھنے کی کوشش کرے۔پس وہ تمام جماعتیں جور پورٹ نہیں بھجوار ہیں مجھے علم ہے کہ انہوں نے کچھ ستی کی ہے۔الا ما شاء اللہ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو کام کرتے ہیں لیکن مزاجا ر پورٹ بھجوانے میں سُست ہو جاتے ہیں۔عموماً انسانی فطرت کا یہ رجحان ہے کہ جو نہ کام کیا ہو اس کی بھی رپورٹ بھجوائے اور رپورٹ میں مبالغہ کرے۔پس جب بالعموم رپورٹیں نہ ملیں تو اس کا یہ نتیجہ نکالنا قطعی معقول نتیجہ ہے کہ کام نہیں ہوا اس لئے خواہ آپ رپورٹ بھجوائیں یا نہ بھجوائیں جو اطلاع مجھے ملنی چاہئے وہ مل جاتی ہے۔اس لئے آپ رپورٹوں کی