خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 358
خطبات طاہر جلد ۸ 358 خطبه جمعه ۲۶ مئی ۱۹۸۹ء پھر چونکہ ایمان پانے کے بعد کفر نصیب ہوا ہے اس کا ایک بہت بڑا عذاب مقدر کیا گیا ہے یعنی سیاہ چہروں کے ساتھ منحوس ایسے چہروں کے ساتھ جن پر گویا رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہو ، دوبارہ ایسی حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ دیکھنے والوں کو بھی ان کے چہرے سیاہ دکھائی دے رہے ہوں گے۔پس یہ سزا بہت ہی دردناک سزا ہے اور بہت ہی خوفناک عذاب ہے۔اس سے بچنے کا طریق پہلے ہی بیان فرما دیا گیا ہے کہ حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے گا تم ایک قوم بنے رہو گے اور قیامت کے دن روشن چہروں کے ساتھ تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔فرماتا ہے تِلْكَ أَيْتُ اللهِ تَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَمَا اللهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَلَمِينَ (آل عمران : ۱۰۹) یہ آیات ہیں جو ہم حق کے ساتھ تجھ پر تلاوت کر رہے ہیں۔اے محمد ﷺ یہ صیحتیں ہیں جو ہم تجھے کر رہے ہیں اور بہت ہی کچی نصیحتیں ہیں ان کو معمولی نہ سمجھا جائے۔وَمَا اللهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَلَمِینَ یہ جو خوفناک عذاب بتایا گیا ہے اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جو ان نصیحتوں کو سننے کے بعد ان کا انکار کریں گے اور ان سے اعراض کریں گے ورنہ اللہ دنیا میں اپنی مخلوق پر ظلم نہیں کیا کرتا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ یہ دن جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کا دن ہے اور اس نئی صدی کا پہلا دن ہے جو آج ظاہر ہوا ہے۔اس کے بعد آپ کے وصال کے دن آتے رہیں گے لیکن اس دن کو تاریخی لحاظ سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے کہ اگلی صدی میں داخل ہونے کے بعد یہ پہلا جمعہ ہم نے دیکھا ہے جو ۲۶ مئی کو واقع ہو رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کا دن ہے۔پس اس دن کو یا در کھتے ہوئے ہمیشہ ان نصائح کو پیش نظر رکھا کریں جو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان کی گئی ہیں اور خلافت کے ساتھ وفا کے عہد کو دہرایا کریں اور خدا کی اس رسی کو جو آپ کے لئے دائمی کر دی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں مجھ سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ قیامت تک اب یہ رسی قائم رہے گی۔اس قدرت ثانیہ کے ساتھ چھٹے رہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ آپ کے سارے اختلافات دور فرما دیا کرے گا اور آپ کو وحدت کی لڑی میں پروئے رکھے گا اور ہمیشہ آپ کے ساتھ حسن اور احسان کا معاملہ کرتا رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کے ساتھ اب میں اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔آپ