خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 357
خطبات طاہر جلد ۸ 357 خطبه جمعه ۲۶ مئی ۱۹۸۹ء عظمت کا ذکر ہے۔کثرت کے ساتھ نصیحتیں کرو۔اپنے معاشرے پر نظر رکھو، برائیوں سے روکو، اچھے کاموں کی تلقین کرو۔یہ اگر تم کرو تو پھر اس کے نتیجے میں ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ تم لازم نجات پانے والے ہو گے۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنَتُ بر گز ایسے لوگ نہ بن جانا جو بکھر گئے ، متفرق ہو گئے وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الْبَيِّنَتُ اور کھلے کھلے نشانات پانے کے باوجود، ان نشانات کے آنے کے بعد پھر انہوں نے آپس میں اختلاف شروع کر دیئے۔وَأُولَكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیم ان کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے اور عَذَابٌ عَظِیم کی ایک شکل تو اس دنیا میں بھی ہو سکتی ہے مگر اگلی آیت جو شکل بتا رہی ہے وہ آخرت سے تعلق رکھنے والی ہے۔وہ ہے یومَ تَبْيَضُ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ایک ایسا دن آنے والا ہے کہ جب بعض چہرے سیاہ ہو جائیں گے اور بعض چہرے سفید اور روشن دکھائی دیں گے۔فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ پس وہ چہرے جو سیاہ ہوں گے ان کو مخاطب کرتے ہوئے گویا ہم کہیں گے آكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُم کیا تم ایمان لانے کے بعد کا فر ہو گئے تھے اور فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ۔پس اس عذاب کو چکھو۔وہی عذاب جو پہلے جس کا ذکر ہے عَذَابٌ عَظِیم دراصل اسی طرف اشارہ ہے۔اس عذاب کو چکھو جس کا تم بوجہ اس کے کہ تم نے انکار کر دیا اور تم نے کفر کی حالت اختیار کر لی وَأَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِى رَحْمَةِ اللَّهِ ۖ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے اور سفید ہوں گے ان کے متعلق خوشخبری یہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت میں ہیں اور ہمیشہ اس رحمت میں رہیں گے۔کیونکہ اختلاف کا مضمون چل رہا ہے اس لئے یہاں مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی رسی کو پکڑے رکھیں گے ان کے اوپر کفر کوغل بہ نہیں ہوگا اور وہ لوگ جو خدا کی رہی کو چھوڑ دیں گے ان کے جو باہمی اختلافات ہیں جو شروع میں آپ کو نجی اور معمولی دکھائی دیں گے، وہ اختلافات رفتہ رفتہ ان کو کفر کی طرف دھکیل دیں گے۔پس آپ کے ایمان کی ضمانت حبل اللہ کو پکڑے رہنے میں ہے۔اگر آپ حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے تو لازماً آپ کے ایمان کی حفاظت کا وعدہ ہے اور قیامت کے دن آپ روشن چہروں کے ساتھ دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔اگر اس رسی کو چھوڑ دیا تو اس کا لازماً نتیجہ یہ ہے کہ بالآ خر آپ کفر میں مبتلا ہوجائیں گے اور اس کفر کے بعد