خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 356

خطبات طاہر جلد ۸ 356 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کہ تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے کہ جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور نیک باتوں کی تعلیم دے اور بدی سے رو کے اور یہی لوگ کا میاب ہونے والے ہیں۔یہاں اُن کا معنی عموماً مفسرین یہ لیتے ہیں کہ تم میں سے ایک حصہ ہو صرف۔یعنی باقی لوگ بے شک نصیحتیں نیک کاموں کی نہ کریں، برے کاموں سے نہ روکیں لیکن تم میں سے ایک حصہ ہو جو یہ کام کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ اُن میں جونکرے کا استعمال ہے وہ عظمت کے لئے ہے۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُم تم میں ایک عظیم قوم ایسی پیدا ہو جانی چاہئے ، اپنی کثرت کے لحاظ سے اور اپنے تقویٰ کی بلندی کے لحاظ سے اور کثرت کے ساتھ پر خلوص صیحتیں کرنے کے اعتبار سے ایک ایسی قوم ہو جس کو اُم کہا جائے یعنی ایک عظیم الشان قوم۔يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ کہ وہ ہمیشہ خیر کی طرف بلائیں اور اچھے کاموں کا ، نیک کاموں کا ،حسن معاشرت کا ، معروف میں ساری چیزیں آ جاتی ہیں ،حسن معاشرت کا حکم دیں وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور برے کاموں سے روکنا شروع کریں۔وأوليكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی وہ لوگ ہیں جو در حقیقت نجات پانے والے ہیں۔یہ مضمون بیان کر کے پھر اختلاف کا مضمون دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ جن قوموں میں نصیحت کرنے والے کثرت کے ساتھ ہوں اور ان کی نصیحتوں میں عظمت پائی جائے۔بُرے کاموں سے روکنے والے کثرت سے موجود ہوں اور ان کے روکنے میں ایک قوت پائی جائے ، وہ قو میں ہلاک نہیں ہوا کرتیں اس لئے اختلافات سے بچنے اور برائیوں سے بچنے کے لئے تم لوگ گونگی شرافت کی بجائے ایک بولنے والی شرافت اختیار کرو۔تمہاری شرافت میں انفرادیت نہیں ہونی چاہئے بلکہ تمہاری شرافت باہر نکلے اور لوگوں کو شریف بنانے والی شرافت ہو۔ایسی شرافت نہ ہو کہ جی ٹھیک ہے جو کچھ ہورہا ہے ہورہا ہے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس مضمون کو پرانے مفسرین میں سے تو کبھی کسی نے غلط نہیں سمجھا لیکن آجکل کے مفسرین اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ زبردستی بھی لوگوں کو روکو اور ڈنڈے مار مار کے نمازیں پڑھاؤ ، ڈنڈے مار مار کے فلاں بری باتوں سے روکو حالانکہ اس مضمون میں دور کا اشارہ بھی اس بات کا نہیں یعنی اس آیت میں اس مضمون کا کوئی اشارہ نہیں۔نصیحت کا اشارہ ہے اور نصیحت کی