خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 355 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 355

خطبات طاہر جلد ۸ 355 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء فائض کئے جاتے ہیں تو گروہ بندی اپنے تعلقات کی بناء پر کرتے ہیں یا بعض لوگ ان سے اطاعت کا تعلق تو ڑلیتے ہیں اس لئے کہ وہ دوسرے گروہ سے ان کے نزدیک تعلق رکھتا ہے۔خواہ وہ حقیقت میں رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ایسی جماعتوں میں میں نے دیکھا ہے سب سے لمبے فساد چلتے ہیں اور اکثر ایسی جماعتیں جہاں ہمیشہ جھگڑے ہوتے ہی چلے جاتے ہیں ٹھیک ہی نہیں ہوتے ان میں بنیادی نقص یہی ہوتا ہے کہ بعض جماعتیں خاندانی تعصبات اور گروہوں میں بٹ چکی ہوتی ہیں اور جب کوئی عہدیدار آئے وہ سمجھتا ہے کہ اب مجھے وقت مل گیا ہے کہ میں اس عہدے کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے خاندان کو نیچا دکھاؤں یا اگر کوئی متقی اوپر آ جائے تو دوسرے اعتماد نہیں کرتے پھر۔وہ اس کی ہر بات پر بدظنی کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ یہ چونکہ فلاں گروہ سے فلاں خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس نے ہمیں نیچا دکھانا ہی دکھانا ہے۔پس تقویٰ سے کام لیں ، یہ مضمون ہی تقویٰ سے شروع ہوا ہے اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ اگر تم تقویٰ کا حق ادا کرنے کی کوشش نہیں کرو گے تو پھر تمہارے اختلاف کبھی دور نہیں ہوں گے۔پس پہلی آیت میں اختلاف دور کرنے کے لئے یا اختلافات سے بچنے کے لئے ایک بہت ہی گہرا اور دائمی سبق عطا فرما دیا گیا جس کا استعمال کبھی بھی انسان کو مایوس نہیں کر سکتا۔اختلاف دور کرنے کی جان تقویٰ ہے اور آنحضرت ﷺ چونکہ تقویٰ کے اعلیٰ مراتب پر فائض تھے بلکہ کائنات کے سب سے زیادہ متقی انسان تھے اس لئے اس تقویٰ کی برکت ہی تھی کہ آپ نے لڑتے ہوؤں کو ایک کر دیا۔پس جو خود متقی ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود لڑائی کا موجب بن جائے۔جس کا تقویٰ اس عظمت کا حامل ہو کہ دوسروں کو ایک کر رہا ہو ایسے شخص سے افتراق کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔پس تقویٰ کا اعلی تقاضا یہی ہے کہ آپ لوگ خدا کے نام پر اکٹھے ہوں اور اپنے فیصلوں میں کبھی بھی جنبہ داری اور رشتہ داری یا آپس کے اختلافات کو جماعتی حالات میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔اور ہر موقع پر ہر صورت میں وہاں انصاف پر قائم رہیں۔پس پہلا مضمون احسان کا مضمون ہے خلافت کے ساتھ تعلق میں اور یہ مضمون انصاف کا مضمون ہے اور عدل کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا کرنے کی طرف میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔نظام جماعت میں آپ ہمیشہ عدل کے اعلیٰ تقاضے پورے کریں۔یہ مضمون بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ