خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد ۸ 31 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء نے جو تبتل اختیار فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ تمام دنیا کے تعلقات کو رکھتے ہوئے بھی آپ ان سے الگ ہو گئے اور یہ بتل ایک انتہائی تنہائی کا مقام ہے۔ایک شاعر نے کہا ہے تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا لیکن تبتل کا مضمون اس مضمون کی انتہائی شکل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کے لئے اپنے تعلقات کو اس طرح الگ کرنا شروع کیا کہ سب کچھ پاس ہوتے ہوئے بھی آپ تنہا رہ گئے۔یعنی اگر خدا کی ذات نہ ہو تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انسان تھے جو تمام کا ئنات میں تنہا تھے کوئی اور تعلق آپ کے کام کا نہیں تھا سوائے خدا کے تعلق کے۔یہ وہ تل کا مقام ہے جس کے بعد خدا سارا انسان کا ہو جاتا ہے۔اور وہ تبتل جس جس حصے میں نصیب ہوتا چلا جاتا ہے اتنا اتنا خدا اس کو ملتا چلا جاتا ہے۔پس ہمیں اپنے تعلقات سے جدائیاں اختیار کرنی پڑیں گی تب اس کے مقابل پر خدا کا وصل نصیب ہوگا اور یہ جدائیاں اس وقت اختیار ہونی چاہئیں جب ہمارے اختیار میں ہے شاعر نے تو کہا ہے کہ میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا دوسرا نہ ہونا پاس یہ تو اتفاق کی بات ہے۔دنیا میں ہر روز وہ چلتا پھرتا تھا اس کو کبھی جلوت نصیب ہوتی تھی کبھی خلوت بھی ملتی تھی لیکن دنیا میں اکثر حصہ انسان کا جلوتوں میں ہی گزرتا ہے قسمت سے اس بے چارے کو معلوم ہوتا ہے کبھی خلوت ملتی تھی وہ اپنے محبوب کو یاد کیا کرتا تھا گویا وہ اس کے پاس آ گیا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری جلوتیں نصیب ہوتے ہوئے بھی ایک خلوت نصیب ہوئی۔بیوی سے تعلقات کے وقت بھی وہ خلوت نصیب تھی۔چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جو نصیحت فرمائی ہے یہ صاحب عرفان جو اس تجربے میں سے گزرا ہوا نہ ہواس کے بغیر کسی کے ذہن میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔آپ نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اس خیال سے ڈالتا ہے کہ میرا اللہ راضی ہو گا اس کا حکم ہے کہ اپنی بیوی سے نرمی کا سلوک کرو۔اس کا ایک لقمہ ڈالنا بھی عبادت بن جاتا ہے۔یہ ہے خلوت کے اندر جلوت یا جلوت کے اندر خلوت یعنی بظاہر ایک