خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد ۸ 30 خطبہ جمعہ ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء مواز نہ ہوگا تو ادنی رفیق کو چھوڑ دیا جائے گا اور اعلیٰ رفیق کی طرف روح حرکت کرے گی۔چونکہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف حرکت ہے اس لئے اس موازنے کے وقت اس جدائی کی وہ تکلیف نہیں ہوتی مگر جن کا کلیۂ انحصار دنیا پر ہوتا ہے جن کی لذتیں ہی دنیا کی ہوتی ہیں، جن کے تعلقات کے مزے دنیا کے تعلقات کے مزے ہوتے ہیں اور ان کو خدا کے تعلق کا مزہ اس دنیا میں نصیب نہیں ہوتا ان کی موت خواہ جسمانی لحاظ سے آرام سے بھی آئے بڑی مشکل موت ہوا کرتی ہے کیونکہ وہ حسرت کے ساتھ ہر چیز کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔یہ بھی میرے ہاتھ سے گیا، یہ بھی میرے ہاتھ سے گیا، اچھا مکان بنایا تھا اس کو تو رہنا نصیب نہیں ہوا، اچھے کپڑے بنائے تھے پہنے نصیب نہیں ہوئے ، اولا دخدا نے دی تھی ان کی شادیاں، ان کی خوشیاں دیکھنی نصیب نہیں ہوئیں۔ہزار قسم کی بے نصبیاں اس وقت اس کے سامنے ہیولے بن کر اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ہر طرف اس کو نا مرادی اور ایک نقصان اور زیاں کا احساس محسوس ہوتا ہے جس طرح غول بیابانی کسی چیز کوگھیر لیں اس طرح اس کے چاروں طرف یہ دنیا کے بھوت اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔یہ وہ تکلیف دہ موت ہے جو جسمانی طور پر تکلیف دہ نہ بھی ہو روح کے لئے بڑی اذیت ناک ہوا کرتی ہے۔پس تجمل الی اللہ اس وقت اختیار کرنا چاہئے جب ابھی جدائیوں کے وقت نہ آئیں۔جدائیوں سے پہلے تبتل اختیار کر لیا جائے تو انسان ہر نامرادی سے بچ جاتا ہے اور اس کی ہر مراد پوری ہو جاتی ہے مگر تبتل الی اللہ میں کچھ نہ کچھ ابتدا میں انسان کو از خود محرومی اختیار کرنی پڑتی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ بغیر محرومیاں اختیار کئے انسان کو مکمل طور پر تنبل نصیب ہو جائے۔چنانچہ بے شمار انسانی تعلقات میں سے ہر تعلق پر نظر رکھنی ہوگی کہ اس تعلق کی جڑیں میری ذات میں پیوستہ ہیں یا یہ تعلق ایک سطحی تعلق ہے جس کے الگ ہونے کے نتیجے میں مجھے میری ذات کو نقصان نہیں ہوگا۔جب جڑیں پیوستہ ہوں کسی چیز میں اس پودے کو اس درخت کو اُکھاڑ کر آپ دیکھیں جس ذات میں پیوستہ ہوتی ہیں جڑیں اس کی بہت ساری مٹی اس جگہ کی مٹی اور اس کے ساتھ لگا ہوا مواد سب ساتھ اچھل کر کے آجاتے ہیں لیکن جو چیز تبتل اختیار کر چکی ہو وہ بڑے آرام سے نئی سمت میں انتقال اختیار کر لیتی ہے اور کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔روز مرہ کی زندگی میں ایسے انسان کو صبح شام تجربے ہوتے ہیں ان تجربوں کی روشنی میں انسان کو اپنی روحانی زندگی کا مسلسل جائزہ لینا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم