خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 351

خطبات طاہر جلد ۸ 351 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء بعض دفعہ اجتماعی خاندانوں میں ملتا ہے کہ سب لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔اگر اس دادا کی عظمت دلوں میں قائم ہے، اس کا رعب دلوں میں قائم ہے اور اس کی محبت دلوں میں قائم ہے تو بھائیوں کے لاکھ اختلاف ہوں اس کے باوجود وہ خاندان اکٹھا رہا کرتا ہے۔بعض دفعہ بعض خواتین خاندان کو اکٹھا رکھتی ہیں۔ایک باپ کی وفات کے بعد یا دادا کی وفات کے بعد جو گھر کی بڑی خاتون ہے اگر اس کے اندر سلیقہ اور شعور ہو اور سعادت ہو تو اس کے نتیجے میں اولاد نے بھی وہی سلیقہ اور شعور اور سعادت پیدا ہو جاتے ہیں اور اس خاتون کی ایسی عظمت دلوں پر قائم رہتی ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے بھائی بھائی آپس میں یا بہن بھائی آپس میں اختلاف کر ہی نہیں سکتے۔ابھی جرمنی کے دورے کے وقت ایک وہاں سکھ دوست ہیں جو بہت ہی جماعت سے محبت رکھتے ہیں اور حقیقت ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے عاشقانہ تعلق ہے۔ایک دفعہ ایک احمدی دوست نے ان کی موجودگی میں مجھے فون کیا تو ایک دم انہوں نے اُٹھ کر کہا کہ تم بیٹھے ہوئے فون کر رہے ہو، میں نے تو آج تک اُن کو بیٹھ کے فون نہیں کیا تم کھڑے ہو جاؤ فورا۔اب ہم تو ایسی رسموں کے قائل نہیں ہیں لیکن میں ان کی محبت کا اظہار بتانا چاہتا ہوں۔بے اختیار انہوں نے اتنے جذبے سے کہا کہ وہ بیچارہ بھی فوراً ڈر کے مارے کھڑا ہو گیا کہ ان پر بُرا اثر نہ پڑے تو یہ ان کے عشق کا حال ہے۔انہوں نے اصرار کیا کہ آپ ہمارے گھر ضرور آئیں۔وہ ایک بڑا خاندان ہے اور اس خاندان کے متعلق مجھے علم ہے اُن کے ذریعے بھی ، دوسرے ذریعے سے بھی کہ وہ آپس میں اکٹھے ہیں اور بہت ہی محبت کا تعلق ہے۔میں گھر گیا تو وہاں مجھے پتا چلا کہ اصل وجہ کیا ہے۔ان کی والدہ زندہ ہیں ، نہایت نیک فطرت خاتون ہیں اور جس طرح آپ کے تصور میں ہمارے معاشرے میں پرانے زمانے کی بزرگ خواتین آسکتی ہیں ویسی ہیں وہ اور سارے بچوں کا ان سے ایسا احترام اور محبت کا تعلق ہے کہ کوئی اختلاف بھی ہو ان کے ایک لفظ پر ختم ہو جاتا ہے۔چنانچہ انہوں نے وہیں ہنستے ہوئے مجھے واقعہ سنایا کہ ان کی جائیداد تھی ، ان کی کمائی ہوئی چیز تھی کسی بھائی نے فون پر کہا اپنی والدہ کو کہ وہ میں نے لینی ہے، انہوں نے کہا ہاں جی ہوگئی لے لو۔کہتے ہیں میں منہ سے نکالنے ہی لگا تھا کہ یہ کیا بات؟ تو فور میں نے کہا نہیں نہیں آپ نے کہہ دیا تو ہوگئی، جو آپ کہیں وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔تو ایک خاندان میں اگر ایسی مثال ملتی ہے تو وہ روحانی خاندان جس کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ