خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 349
خطبات طاہر جلد ۸ 349 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء پس یہاں مضمون کی مناسبت سے میں یہی سمجھتا ہوں کہ پہلی آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے آنحضور ﷺ کے وصال کی پیشگوئی تھی اور ایک انسان جو کامل وصال حاصل کر سکتا ہے جس کا آخری سانس رہتی دنیا کے لئے ہمیشہ ہمیش کے لئے ایک کامل نمونہ بن سکتا ہے اس رنگ میں اس وصال کا ذکر کیا۔جو اتنا کامل تھا کہ مفسرین نے دھو کہ کھا لیا کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کوئی شخص تقویٰ کا حق ادا ہی نہیں کر سکتا اس لئے یہ آیت منسوخ ہونی چاہئے اور ایک دوسری آیت سے جس میں مَا اسْتَطَعْتُم کا ذکر تھا اس کو منسوخ بھی سمجھ لیا۔حالانکہ اگر آنحضور ﷺ پر نظر جاتی تو ان کو معاً یہ یقین ہو جا تا اور اطمینان ہو جاتا کہ ہاں ایک شخص ایسا ضرور تھا جو حَقَّ تُقتِہ کے مطابق تقویٰ کا کامل حق ادا کر چکا تھا۔بہر حال اس وصال کے بعد جو فتنے پیدا ہونے چاہئیں ، عقل ان کو تسلیم کرتی ہے کہ ایسا ہونا چاہئے ، دنیا کی تاریخ بتاتی ہے، ہر راہنما کے بعد افتراق ہوا کرتا ہے اسی افتراق کا ذکر ہے اور پھر نصیحت کی گئی ہے کہ اس افتراق کا اعلاج یہ ہے کہ اس عظیم نعمت کو یاد کرنا جس کے ہاتھ پر تم اکٹھے ہوئے تھے ، جس نے تمہیں ہر قسم کی ہلاکت سے بچالیا تھا اور اس کی یاد تمہیں ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے پر مجبور کر دے۔چنانچہ اختلاف کے وقت دراصل انبیاء کی محبت ہی ہوتی ہے جو اختلاف پر غالب آیا کرتی ہے اور اس کی محبت کے نتیجے میں جو تقویٰ پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ سے انسان فتنوں سے بچ جاتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر اکٹھا ہونے میں آنحضور ﷺ کاعشق دراصل کارفرما تھا۔اتنا گہرا صدمہ تھا آنحضور ﷺ کے وصال کا کہ جہاں ایک طرف فتنے بھی سراٹھا رہے تھے وہاں مومن اس وقت ان لمحوں میں کسی اختلاف کی سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متفقہ انتخاب میں آنحضرت ﷺ کی محبت دراصل کارفرما تھی اور و ہی نعمت تھی جس نے دوبارہ مسلمانوں کو فتنے سے بچایا۔اسی طرح ہماری تاریخ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے معا بعد تمام جماعت جو ایک ہاتھ پر اکٹھا ہوئی ہے اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کا رفرما تھی اور وہی نعمت تھی جو دوبارہ مسلمانوں کی حفاظت اور مومنوں کو فتنے سے بچانے کے لئے کام آئی۔ورنہ فتنے کی جڑیں پہلے لگ چکی ہوئی ہوتی ہیں۔بعض لوگ اختلاف کی تیاریاں پہلے ہی کر چکے