خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 344
خطبات طاہر جلد ۸ 344 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء فَفِي رَحْمَةِ اللهِ ۖ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (آل عمران : ۱۰۳ - ۱۰۸) اور پھر فرمایا:۔آج ۲۶ مئی کا دن ہے اور یہ دن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کا دن ہے۔یوں تو انبیاء کی پیدائش کے دن اور وفات کے دن جہاں تک مذہبی تاریخ کا تعلق ہے ان کی قوموں نے نہیں منائے۔یعنی اس مستند تاریخ کا جہاں تک تعلق ہے جو قرآن کریم میں ملتی ہے اور جو صحف مقدسہ گزشتہ سے ملتی ہے۔جہاں تک روایات کا تعلق ہے اور بعد میں جاری ہونے والی عادات کا تعلق ہے یہ دن ضرور منائے گئے اور آج بھی منائے جاتے ہیں۔پس اس پہلو سے سب سے پہلے تو میں جماعت کے سامنے یہ مضمون کھولنا چاہتا ہوں کہ انبیاء کی پیدائش اور وصال کے دنوں کی اپنی ایک عظمت ضرور ہے اور وہ دن شعائر اللہ میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ دن منانے ہوں تو شعائر کی نسبت کے ساتھ اسی شان کے مطابق منانے چاہئیں۔یعنی ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کا ذکر بلند کرنا چاہئے اور اس پیغام کو پیش نظر رکھنا چاہئے جو پیغام لے کر یہ خدا کے برگزیدہ لوگ دنیا میں آیا کرتے ہیں۔محض شمعیں روشن کرنا یا اچھے کپڑے پہنایا اور خوشیوں کے اظہار گلیوں میں نکل کر کرنا ہرگز ان دنوں کے شایان شان نہیں ہے۔پس اس پہلو سے ہمیشہ ہی جماعت احمدیہ کا یہی مسلک رہا ہے اور اگر چہ بعض اوقات ظاہری طور پر بھی جماعت احمدیہ نے آنحضرت ﷺ کی پیدائش کے دن روشنیاں بھی جلائیں اور جھنڈیاں بھی لگائیں لیکن کچھ عرصے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے اس رواج کو اسی خطرے کے پیش نظر ختم کر دیا کہ کہیں جماعت احمدیہ بھی ظاہری رسم و رسوم کا شکار ہو کر نہ رہ جائے اور ان مقدس ایا م کو جو شعائر اللہ ہیں، اس احترام کے ساتھ منانا چھوڑ دے جو در حقیقت ان کا حق ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے دن کی مناسبت سے میں نے آج قرآن کریم کی ان آیات کا انتخاب کیا ہے جن میں اس موقع کی مناسبت سے جماعت احمدیہ کے لئے اہم پیغامات ہیں اور اس مضمون پر غور کرتے ہوئے میں نے یہ سمجھا کہ دراصل اس میں حضرت اقدس محمد مصطفی علی کے وصال کی پیشگوئی کی گئی تھی جو قریب آچکا تھا۔یہ آیات سورہ آل عمران سے لی گئی ہیں اور