خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 337

خطبات طاہر جلد ۸ 337 خطبه جمعه ۹ ارمئی ۱۹۸۹ء چھوٹے چھوٹے دور دراز جزائر میں یہ اپنی کوششیں کر رہے ہیں اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں اس وقت امریکن دفاعی اڈے قائم ہورہے ہیں۔اسی طرح بعض دوسرے اور ممالک میں جن کے متعلق ہم پوری تفصیل سے جائزہ لے رہے ہیں وہاں بہائیت اپنی جڑیں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن جڑیں تو نہیں کہنا چاہئے، عمارتیں بن رہی ہیں وہاں اور دکھاوے ہورہے ہیں لیکن عملاً تعداد وہی چند ایک سے زیادہ نہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں جب تحقیق کی تھی پہلی دفعہ مجھے ان سے یہ نسخہ ملا کہ بہائیوں کو جس ملک میں آپ پوچھیں کہ یہاں تو آپ دو چار ہیں صرف اتنی بڑی طاقت آپ کے پاس کہاں سے آ گئی، اتنا پیسہ کہاں سے آ گیا ؟ تو جواب دیتے ہیں کہ ہم یہاں نہیں ہم فلاں جگہ طاقتور ہیں اور فلاں جگہ طاقت کا حال جاکے دیکھو کہ وہاں جواب ملتا ہے کہ ہاں یہاں نہیں ہم فلاں جگہ ہیں اس لئے جہاں جہاں آپ ان کے پیچھے پہنچیں گے وہاں سے آگے کوئی اور جگہ بتائیں گے کہ ہم وہاں طاقتور ہیں اور اس پہلو سے جب میں نے جائزہ لیا تو سو فیصدی حضرت مصلح موعود کا یہ تخمینہ درست نکلا ہے۔پاکستان میں آجکل امریکی اڈوں کے نفوذ کی وجہ سے ان کا نفوذ بڑھا ہے اور اب جو آخری حملہ انہوں نے ربوہ پر کرنے کی کوشش کی ہے اس کی تفصیل میں آپ کو بتا تا ہوں۔اس سے مزید اس خیال کو تقویت ملی کہ ان کی پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے۔وہاں ایک ایسا خاندان آباد ہے جس کے گھر کی مالکہ ایرانین ہیں۔نوابشاہ ضلع میں ایک مخلص احمدی ہوا کرتے تھے آغا عبداللہ خان ان کی ایک شادی ایران میں ہوئی تھی اور اس ایرانی خاتون نے احمد بیت قبول کی اور وہاں ان کی وفات کے بعدر بوہ میں آباد ہوئیں ان کے ہر قسم کے بچے ہیں۔ایک امریکہ میں بچہ ڈاکٹر ہدایت ہیں ان کو تو میں جانتا ہوں۔اللہ کے فضل سے نہایت مخلص اور نمونے کے ڈاکٹر ، بنی نوع انسان کے بچے ہمدرد اور خدا تعالیٰ سے محبت کرنے والے جماعت کی خاطر قربانیاں کرنے والے اس لئے اس ذکر میں ان کو کہیں متہم نہ مجھ لیں اس لئے میں تفصیل سے ان کا دفاع کر رہا ہوں۔باقی اولاد کچھ کسی قسم کی ، کچھ کسی قسم کی میں تفصیل سے نہیں جانتا۔کچھ دن ہوئے ان کے گھر میں بہائیوں کی ایک میٹنگ ہوئی اور اس میں بہائیوں کا جوسب سے بڑا سر براہ تھا وہ امریکن تھا اور وہ مرتد جس کا میں نے ذکر کیا ہے وہ اپنے ایک دوساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچا اور یہ