خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 334

خطبات طاہر جلد ۸ 334 خطبه جمعه ۹ ارمکی ۱۹۸۹ء بات ہوسکتی ہے۔پس یہ نبوت کے نام پر اشتعال کوئی نئی چیز نہیں ہے۔تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اس شخص کو قتل کر دیں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔اس فیصلے کے بعد یا اس فیصلے کے دوران اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک شخص ان کی طرف آیا جو صاحب فہم اور اولوالالباب میں سے تھا۔اس نے ان سے کہا کہ خدا کا خوف کرو، عقل کے ناخن لو تم کیا فیصلے کر رہے ہو؟ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه، اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے، اگر یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے تو تمہارا کام نہیں ہے کہ تم اس کو ہلاک کرو، خدا کا کام ہے کہ اس کو ہلاک کرے اور اگر کوئی شخص خدا پر جھوٹ بولتا ہے تو اس کا عذاب ان لوگوں پر نہیں ٹوٹا کرتا جن کو وہ مخاطب ہوا کرتا ہے۔تو تمہیں تکلیف کیا ہے؟ جھوٹ ایک شخص بول رہا ہے خدا پر بول رہا ہے، اللہ اس کو پکڑے، ہلاک کرے ،نہ کرے اس کی مرضی ہے۔تمہیں نقصان کونسا ہے اس کا۔جھوٹا تو خود اپنی موت مر جائے گا لیکن یہ یاد رکھو کہ اگر چہ تم جھوٹا سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت کی اور یہ سچا نکلا وَإِنْ يَكُ صَادِقًا تُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ (المؤمن: ۲۹) پھر ضرور جن عذابوں اور جن تکلیفوں سے یہ تمہیں ڈرا رہا ہے خدا کی ناراضگی کے عذابوں سے وہ تمہارے پیچھے لگ جاہیں گے اور تمہیں نہیں چھوڑیں گے اس لئے کیوں جہالت کی بات کرتے ہو؟ ایسے معاملے میں کیوں دخل دیتے ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ، کوئی اختیار نہیں ہے؟ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی ان دوصورتوں میں سے ایک ہی صورت ہو سکتی ہے۔اگر جھوٹ بولا ہے تو خدا پر جھوٹ بولا ہے اور ایسی صورت میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ پھر تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ انتظار کرو اور دیکھو کہ خدا اس سے کیا سلوک کرتا ہے۔اگر تم نے خود خدائی کو اپنے ہاتھ میں لیا۔خود ایک شخص کو جھوٹا سمجھتے ہوئے اس کو سزاد ینے کی کوشش کی تو یا درکھو اگر یہ سچا نکلا تو پر تم ضرور ہلاک ہوگے اور ضرور تمہیں خدا کا عذاب پہنچے گا۔یہ ہے عقل کی بات، یہ ہے خدا کا کلام۔کیا یہ اس کلام کو نہیں پڑھتے ؟ کیا پڑھتے ہیں تو ایسی صورت میں پڑھتے ہیں کہ ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کو کوئی سمجھ نہیں آتی۔پس یہ ایک تمسخر ہے محض اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔جہالت کی حد ہے اس قسم کی دلیلیں پیش کرنا اور پھر جہالت کی حد ہے اس قسم کی دلیلیں قبول کر لینا۔اس دلیل کو آگے بڑھا ئیں کئی لوگ ہیں جو جھوٹے خداؤں کی عبادت کرتے ہیں یا خدا ہونے کے دعوے کرتے ہیں۔اگر رسول کی عزت اور غیرت کا سوال ہے تو خدا کی