خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 332

خطبات طاہر جلد ۸ 332 خطبه جمعه ۱۹ارمئی ۱۹۸۹ء اچھے صاف ستھرے کپڑے پہنے سے بھی منع کیا جائے۔معلوم ہوا کہ ایک طرف تو مرکزی حکومت نے ہدایت دی تھی خود پنجاب حکومت کو کہ ایسا کرو تا کہ یہ سہر وہ اپنے سر باندھ سکیں۔دوسری طرف پنجاب حکومت یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ یہ سہرا ہمارے سر ہے۔اس کھینچا تانی میں یہ بتانے کے لئے کہ ہے اصل میں کس کا سر۔پنجاب حکومت کے ایک خاص پروردہ مولوی ہیں جو نہایت دریدہ دہن انسان ہیں، ایک منحوس صورت انسان ہیں۔انہوں نے یہ اعلان کیا کہ میں تمہیں بتا تا ہوں کہ اصل کہانی کیا ہے۔ہوا یہ کہ میں تھا پنجاب کی طرف سے جو ایک وفد لے کر مرکزی وزراء کے پاس پہنچا اور ان کو میں نے ایک سادہ سی بات سمجھائی۔وہ سادہ بات یہ تھی کہ تم سو سالہ جشن منانے کی اجازت دے رہے ہو ان لوگوں کو تم جانتے نہیں کہ یہ سو سالہ جشن ہے کس چیز کا؟ وزراء نے پوچھا آپ فرمائیے مولانا کہ یہ کس چیز کا جشن ہے۔تو انہوں نے بتایا کہ وہ جشن اس بات کا ہے کہ سو سال پہلے نعوذ باللہ من ذالک مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالا تھا اور وہ ڈاکے کا مال اس وقت سے ان کے ساتھ ہے اور سو سال میں جو ڈا کے کا مال بڑھتا رہا ہے اس کی خوشی میں یہ سارا جشن منایا جا رہا ہے۔تو کیا تم اپنے دنیاوی قانون کے لحاظ سے کبھی ڈاکوکو جشن منانے دیا کرتے ہو کہ میں نے اتنا مال لوٹا قوم کا اس لئے مجھے جشن منانے دیا جائے اور یہ بات مرکزی وزراء کی عقل میں آگئی ، ان کو سمجھ آ گئی، انہوں نے کہا مولانا اب ہمارا مسئلہ حل ہو گیا ہے اب ہم حکم دیتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو جشن منانے کی اجازت نہ دی جائے۔بات سمجھانے والے کی عقل بھی اور بات سمجھنے والے کی عقل بھی ایک خاص حیثیت کی عقل ہے جس کا اگر دنیا کے عظیم الشان سائنسدانوں کو علم ہو جائے تو شائد وہ تجزیہ کریں، دماغ کھول کر دیکھیں کہ کس قسم کی عقل اس دماغ میں بھری ہوئی ہے۔دنیا کے کسی منطق سے بھی آپ اس مسئلے پر غور کر کے دیکھیں اور اسلامی غیرت کے نقطہ نگاہ سے بھی آپ اس پر بات کر کے دیکھیں تو آپ حیران ہوں گے کہ وہ کیسے جاہل لوگ ہیں جنہوں نے یہ دلیل بنائی اور وہ کیسی عقلیں تھیں جنہوں نے اس دلیل کو قبول کر لیا۔سب سے پہلے ایمانی غیرت کا تقاضا تھا یہ سوچتے کہ حضرت محمد مصطفی عمل اللہ کی نبوت پر ہے کون جو ڈاکہ ڈال سکتا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے تجھے یہ پیغام دیا ، ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ: ۶۸) خدا ہر قسم کے انسانی حملوں سے تجھے محفوظ رکھے گا۔تیرے کلام کی حفاظت فرمائے گا،