خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد ۸ 330 خطبه جمعه ۹ ارمئی ۱۹۸۹ء جہاں چند احمدی بستے ہیں، بڑے بڑے دیہات میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں۔چنانچہ ان کی نیت یہ ہے کہ ایسے دیہات میں یا ایسے قصبوں میں پھر زیادہ سے زیادہ احمدیوں کے گھر جلائے جائیں، ان کے اموال لوٹے جائیں، ان کو قتل کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔پس یہ وہ خطرات ہیں جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔حال ہی میں سکرنڈ میں اس صدی کا پہلا شہید ہوا ہے۔منور احمد صاحب بٹ ان کا نام ہے۔ابھی پرسوں مجھے اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔یہ اسی ظلم اور سفا کی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔منور احمد صاحب کے متعلق میں یہ آپ کو بات بتادوں کہ گزشتہ چند سال سے ان کے ساتھ میری خط و کتابت رہی ہے اور اس سے ان سے پہلے ان کے والد بھی شہید کئے گئے ، ان کے بھائی بھی شہید کئے گئے ، غالباً ایک اور خاندان کے فرد بھی شہید کر دیئے گئے۔سکرنڈ کی جماعت چھوٹی سی جماعت ہے جس میں یہ گھر ہے جو خاص طور پر احمدیت کی فدائیت میں نمایاں ہے۔دیہات میں ارد گرد بھی احمدی ہیں ان پر بھی حملے ہوئے ، بہت سے لوگوں نے زمینیں چھوڑ دیں ، بیچ کر دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔منور احمد صاحب اور ان کی ہمشیرہ کے بارہا مجھے خط ملے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عزم کیا ہوا ہے کہ اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے لیکن اس دشمن کو یہ خوشی نہیں دینگے کہ احمدی جگہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس لئے میں ہر وقت تیار بیٹھا ہوں۔اس سے پہلے ان پر حملہ ہوا اور پولیس کو پتا ہے، حکام کو پتا ہے کون خبیث لوگ تھے جنہوں نے حملہ کیا، کونسی مسجد ہے جہاں سے وہ حملہ آور آئے تھے اور پکڑے بھی گئے اور پھر کچھ نہیں بنا۔چنانچہ ان حکومت کی حوصلہ افزائیوں کے نتیجے میں ابھی چند دن پہلے وہی قاتلوں کا گروہ آیا ہے اور دن دیہاڑے ان پر فائرنگ کر کے وہیں ان کو جام شہادت عطا کر دیا۔عطا تو خدا نے کیا لیکن ان کا وہ ایک ذریعہ بن گئے جس کے ذریعے ان کو جام شہادت نصیب ہوا۔پس اس قسم کے قتل کی کوششیں اور جگہ بھی ہو چکی ہیں۔بعض جگہ نا کام ہوئی ہیں کلیہ ، بعض دفعہ شدید زخمی حالت میں احمدیوں کو چھوڑا گیا ہے اور عمومی فساد کی کوششیں بھی بہت ہو چکی ہیں۔ننکانہ صاحب کے واقعات آپ کو پتا ہیں کہ چک ۵۶۵،۵۶۳ پھر سرگودھا کے ساتھ چک ۹۸ شمالی ہے، پھر نوابشاہ کے واقعات ہیں۔یہ ایک دم جو تیزی سے اس باسی کڑی میں اُبال آیا ہے اس کا یہ پس منظر ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے۔ان کو شدید بے چینی اور فکر ہے کہ وقت گزر رہا ہے اور جماعت اپنے ایمان