خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 325
خطبات طاہر جلد ۸ 325 خطبه جمعه ۱۹ مئی ۱۹۸۹ء اس آیت کا اطلاق آج دنیا میں بعض ممالک میں ہو رہا ہے جن میں سب سے زیادہ پاکستان میں اس کا اطلاق دکھائی دیتا ہے۔جب سے دشمنوں کو میں نے جماعت احمدیہ کے امام کی حیثیت سے آپ سب کی نمائندگی میں مباہلے کا چیلنج دیا ہے اور جب سے انہوں نے یہ دیکھا کہ چیلنج کے معا بعد خدا تعالیٰ کی تقدیر نے بار بار اپنی تجلیات جماعت کی تائید میں دکھا ئیں اُس وقت سے ان کے اندر ایک خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور شدید خطرات محسوس کر رہے ہیں کہ بقیہ عرصہ میں جو بھی چیلنج کا عرصہ باقی ہے کہیں خدا تعالیٰ مزید تائیدات سے ان کو نہ نوازے اور کہیں دنیا یہ دیکھ نہ لے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔یہ وہ خطرات ہیں جن کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی شرارت میں بڑھتے چلے جارہے ہیں گویا وہ خود خدا ہیں۔گویا چیلنج ان کے نام یہ تھا کہ تم ہمیں کسی قسم کا کوئی نقصان شرارت اور حسد کے ذریعہ نہیں پہنچاؤ گے۔ہرگز ایسی کوئی بات نہیں تھی۔چیلنج یہ تھا کہ جو خدا کا ہے وہ اس کی تائید میں خدا حیرت انگیز نشانات دکھائے گا اور تمام دنیا میں اس کو غالب کرتا چلا جائے گا، اس کی بدیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرتا چلا جائے گا اور ان کے اندر سے خدا کے ولی پیدا ہوں گے اور ایسی جماعت جو خدا کی ہے اس مباہلے کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ہر پہلو سے تم ان کو نیکیوں میں ترقی کرتا ہوا دیکھو گے اور جہاں تک دشمن کی شرارت کا تعلق ہے مباہلے میں یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ اگر فریقین میں سے کسی کی شرارت سے کسی کا نقصان ثابت ہو تو اس کو خدا کی تجلی کا نشان نہیں سمجھا جائے گا بلکہ وہ بندے کا عناد دشمنی اور شرارت ہے اس کو خدا کے کام کیسے قرار دے سکتے ہو؟ پس اپنے ہاتھ میں انہوں نے جماعت کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری لے کر فی الحقیقت اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ ان کا کوئی خدا نہیں جو ان کی نمائندگی میں جماعت کو نقصان پہنچائے۔ان کا کوئی ولی ایسا نہیں جو ان کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان کی طرف سے جماعت کو ایذاء پہنچائے۔اس لئے انہوں نے کہا خدا نے تو ہمارے لئے کرنا کچھ نہیں ہم کیوں نہ اپنے ہاتھ میں لے لیں امن و امان کے حالات اور جبر و تشدد کے ہتھیار اور ان ہتھیاروں سے مظلوم احمدیوں کے امن اور سکون کو بربادکر دیں اور پھر دنیا کو یہ کہیں کہ دیکھو مباہلے کے نتیجے میں ان کو کیا کیا نقصان پہنچے ہیں؟ یہ ہے وہ فتنہ جو آج کل پاکستان میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے اور طرح طرح کے مظالم اور شرارت کے شاخسانے چھوڑ کر کوشش کی جارہی ہے کہ احمدیوں کے خلاف ایک عام طوفان بدتمیزی کھڑا ہو جائے اور اسی قسم کے