خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد ۸ 324 خطبه جمعه ۹ ارمئی ۱۹۸۹ء احساس ہے۔اس سے اندازہ کریں کہ اس آیت کا مومن کو کس حد تک لطف نہ آتا ہو گا۔جب ایک مومن اس آیت کی تلاوت کرتا ہے تو حقیقت میں اس کی روح وجد میں آجاتی ہے۔خدا اپنے بندوں کی طرف سے شیطان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے وَاسْتَفْزِزُ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بصوتك تو جس کو چاہتا ہے ان میں سے شوق سے فریب دے دے کر اپنی طرف بلا وَ اجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِك اور ان پر اپنے گھوڑوں کے ذریعے اور اپنے پیادہ فوجوں کے ذریعے چڑھ دوڑ اور پوری قوت سے ان پر حملہ کر دے اور پھر ان کو حرص بھی دے، لالچیں بھی دے وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ ان کو مال کی لالچ بھی دے اور اپنے اموال میں شامل کر وَالْأَوْلَادِ اور اپنے وسیع خاندان میں اس طرح شامل کر لے گویا وہ تیری ہی اولاد ہوں۔یعنی اکثریت کے اندر ضم کر کے ان کو قوت کے حساب سے اجازت دے وَ عِذْهُم اور ہر قسم کے وعدے ان سے کر یعنی جو کچھ ممکن ہے کسی ذریعے سیکسی دوسرے کو فریب سے، دھوکے سے،خوف دلا کر ،لالچیں دے کر اپنے ساتھ ملانے کی، ان کو اپنے ایمان سے ہٹانے کی وہ ساری کوششیں کر گزر۔فرمایا وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا غُرُورًا لیکن یا درکھو کہ بندوں کو شیطان جو بھی وعدے دیتا ہے وہ محض دھو کے کے وعدے ہوا کرتے ہیں۔اِنَّ عِبَادِی لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ ياد رکھ اپنی تمام کوششیں کر دیکھ جو بندے میرے ہیں وہ میرے ہی رہیں گے۔لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلطن تجھے ہرگز کبھی کسی قسم کا کوئی غلبہ مجھ سے محبت کرنے والے، مجھ پر ایمان لانے والے بندوں پر نصیب نہیں ہوگا۔وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا اور یہ فرمانے کے بعد حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو یہ سکینت کا پیغام بھی عطا ہوتا ہے وَ كَفى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا کہ تیرا رب تیرے لئے بہت کافی ہے وکیل۔اس آیت کا پچھلے مضمون سے کیا تعلق ہے؟ تعلق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جو تیری وکالت کر رہا ہوں۔مجھ سے بہتر اور کون وکالت کر سکتا ہے؟ میں تیرا رب ہوں اب تیرے معاملے کو میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اس لئے کلیۂ مطمئن ہو جا کہ شیطان کے مقابل پر تیرا ایک وکیل ہے جو ہر طرح تیری وکالت فرمائے گا اور تیری نمائندگی کرے گا اور تجھے سہارا دے گا اور تو اس پر تو کل کرے گا اور شیطان کی طرف سے تجھے اور تیرے ماننے والے، تیرے غلاموں کو قطعاً کوئی خطرہ نہیں۔