خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد ۸ 319 خطبه جمعه ۱۲ارمئی ۱۹۸۹ء تمہارے منصوبے کیا کیا کر دکھاتے ہیں؟ جب ہر طرف سے تم کوشش کر کے تھک چکے ہو گے تب تمہیں خدا بتائے گا کہ تمہاری طاقت کا سرچشمہ یہ دنیا کی طاقتیں نہیں بلکہ میں تھا اور ہمیشہ سے میں ہوں اور میں کبھی تمہیں بہتا نہیں چھوڑوں گا۔اس لئے آپ جیتی ہوئی قوم ہیں، آپ کو کسی پہلو سے مغلوب اور مفتوح ہونے کے تصور کو قبول نہیں کرنا چاہئے ، دھتکار دینا چاہئے اس وہم کو۔اپنے سر بلند کر کے پھریں، ایک معمولی بادشاہ کی حمایت کسی کو حاصل ہو جاتی ہے تو وہ دیکھا نہیں کہ اس کا سرکتنا بلند ہو جاتا ہے تکبر سے۔چار پیسے مولوی کو مل جائیں تو وہ موٹر میں لے کر پھرتا ہے سمجھتا ہے کہ میں نے ساری دنیا کے اوپر قبضہ کر لیا ہے۔وہ جس کو یقین ہو اور کامل اعتماد ہو کہ خدا میرے ساتھ اس کو کتنا بڑا حوصلہ نہیں ہونا چاہئے ، اس کے عزم کا سرکتنا بلند ہو جانا چاہئے اس بات پر غور کریں۔اس لئے ایک لمحہ کے لئے بھی یہ وہم دل میں نہ لائیں کہ آپ کو دنیا کی کوئی طاقت شکست دے سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اللہ آپ کا مولیٰ ہو اور اللہ کوموٹی بنانے کے لئے آپ کو بھی تو اس کا مولی بنا پڑے گا۔یہ نہیں ہوا کرتا کہ آپ کسی دوست سے بے وفائیاں کریں، اس کی طرف پیٹھ پھیر کے دوڑیں، اس کے ہر حکم کی نافرمانی کریں اور پھر یہ کہیں کہ وہ میرا دوست ہے۔کچھ دیر تک شرفاء اپنے تعلق کو قائم رکھا کرتے ہیں۔بعض دفعہ بعض اور رشتوں اور تعلقات کی خاطر قائم رکھتے ہیں اور فورا ان کی ناراضگی دکھائی نہیں دیتی۔ایک امیر دوست جس کے بہت سے تعلقات ہوں جب وہ مر جاتا ہے تو بعض دفعہ اس کے بچوں سے ان کی نالائقیوں کے باوجود دوسرے امیر ساتھی اور دوست اچھے تعلقات رکھتے ہیں، حسن سلوک سے کام لیتے ہیں مگر آخر کب تک۔اس لئے یہ درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہونا خود ہمارے لئے ایک بہت بڑی تائید الہی کی ذمہ داری ہے، تائید الہی کے نشانی ہے اور تائید الہی اس کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان قوموں کو بھی چھوڑ دیا کرتا ہے جو نیک ناموں کی طرف منسوب ہوں اور خود اس خدا سے تعلق منقطع کر دیں۔وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللهَ فَانْسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ (الحشر:۲۰) دیکھو ان لوگوں کی طرح نہ بننا کہ جنہوں نے خدا سے تعلق قائم کر کے اس کو بھلا دیا لیکن ایک ایسا وقت آتا ہے کہ خدا بھی ان کو بھلا دیا کرتا ہے اور اس طرح بھلاتا ہے کہ وہ اپنے فائدے اور نقصان سے بھی غافل ہو جایا کرتے ہیں۔