خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 315

خطبات طاہر جلد ۸ 315 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء وہ زور سے بھی نہ بلند ہوئی ہو بچوں کو فوراً اپنا مقام سکھا دیتی ہے۔وہ شرارت سے فوراً پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔آوازمیں تو اُٹھتی ہیں ناپسندیدگی کے اظہار کے لئے لیکن سوال یہ ہے کہ کس حد تک ان آوازوں میں سنجیدگی ہے، کس حد تک ان میں وقار ہے، کس حد تک ان میں قوت ہے؟ آج تک ایک مغربی ملک نے بھی پاکستان کو پوری سنجیدگی اور پوری قوت کے ساتھ یہ پیغام نہیں دیا کہ ہم اس بات کو برداشت نہیں کریں گے تم ظلم میں حد سے بڑھتے چلے جارہے ہو۔اگر دیا ہوتا تو جس قسم کا ہم جانتے ہیں وہاں کا حال ہے بیچاروں ، تیسری دنیا کے ملکوں کا وہ تو فوراً اپنے پچھلے کئے ہوئے پر تھوکتے اور توبہ کرتے اور اپنے حالات کو بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل کرتے۔ان کی نظریں تو ان آقاؤں کو خوش کرنے پر لگی ہوئی ہیں۔ہمارا ملک ہے قابل شرم بات ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ کہتے ہوئے بڑی شدید تکلیف ہوتی ہے لیکن واقعہ یہی ہے۔اسے تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے۔تو آپ نے دیکھ لیا کہ گیارہ سال کی بے انتہاء منظم ، مربوط کوششوں کے باوجود عالمی سیاست میں کوئی تبدیلی واقعہ نہیں ہوئی اور آزاد دنیا کے سیاستدانوں نے آپ کے معاملے کو ادنی سی سنجیدگی سے بھی نہیں لیا لیکن اگر روس میں ایک یہودی کا حق مارا جائے ، ایک سائنسدان کو اس کی آزادی سے محروم کر دیا جائے تو ساری مغربی دنیا میں شور قیامت برپا ہو جاتا ہے۔اس قدر شدت کے ساتھ روس کو مذموم کیا جاتا ہے متہم کیا جاتا ہے کہ آئندہ ایسی باتیں کرنے سے روس کو دوہری ، چو ہری بعض دفعہ بیسیوں گئی زیادہ احتیاط کرنی پڑتی ہے اور بہت سے انفرادی صورت میں ایک ایک قیدی ایسے ہیں جن کو ان کے دباؤ نے آزاد کروا دیا لیکن کتنے احمدی قیدی ہیں ایک احمدی قیدی بتائیں جن کو مغربی طاقتوں کے دباؤ نے آزاد کروایا ہو، ایک بھی نہیں ہے۔جب یہ پاکستان کے حالات تبدیل ہوئے اور بظاہر جمہوریت کا سورج بلند ہوا تو اس سے اس کے آثار کو دیکھتے ہوئے صدر پاکستان نے تمام ان موت کے قیدیوں کی سزا معاف کر دی جن کو مارشل لاء نے موت کی سزا سنائی تھی۔یہ کوئی انسانی ہمدردی کا واقعہ نہیں تھا یہ ایک سیاسی چال تھی۔ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی نے آ کے اگر مارشل لاء کے قیدیوں کی سزائیں معاف کیں تو سارا سہرا ان کی طرف چلا جائے گا اور یہ ملک میں ہر دلعزیز ہو جائیں گے تو کیوں نہ ہم ان کے آنے سے پہلے یہ اقدام کر لیں لیکن ایک استثناء رکھا وہ چار قیدی جو واقعہ معصوم تھے، جن کو محض مذہب کی دشمنی کے نتیجے