خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 316

خطبات طاہر جلد ۸ 316 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔اس حکم میں ان کو مستغنی کر دیا گیا اور اس بخشش کا فیض ان تک نہیں پہنچا۔کہاں تھے وہ مغربی آزادی کے علمبردار ممالک جب انہوں نے یہ دیکھا تو کیوں اس بات پر شور نہ مچایا ؟ کیونکہ ایسا واقعہ تھا جو بڑی کراہت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش ہو رہا تھا کہ سارے قیدیوں کو جو واقعہ مجرم ہیں، جو قاتل ہیں، جو زانی ہیں، جنہوں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اپنی ہوس پورا کرنے کی خاطر مظالم کئے اور پھر ان کو قتل کر دیا۔ان سب کی سزا ئیں تو انہوں نے معاف کر دیں اگر وہ مارشل لاء نے جاری کی تھیں لیکن چار احمدی قیدیوں کو تم معاف نہیں کر سکے، جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔بعد میں جو واقعہ ہوا ہے وہ اس طرح ہوا کہ پھر پیپلز پارٹی کے پاس سوائے اس کے چارہ نہیں رہا کہ اچھا اگر مارشل لاء کے موت کے سزا پانے والے معاف نہیں ہوتے تو باقی سب کو معاف کر دیا جائے اور اس عام معافی میں ان چار کو بھی اللہ تعالیٰ نے نجات بخشی۔پس یہ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی مدد تھی کسی غیر ملک کی سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ایک رستہ تو وہ ہے جو میں آخر پر ابھی ذکر کروں گا اور ایک یہ ہے کہ اس پالیسی کو تبدیل کر کے ہمیں لازماً عوام الناس تک پہنچنا ہوگا۔آج کی سیاست اپنے ملکوں میں کمزور بھی ہے اور عوام الناس کی مرضی کے خلاف آج کا سیاستدان کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔آپ اگر ان سے درخواست کریں گے یا انسانی ہمدردی کے نام پر کوئی دردناک واقعات ان کے سامنے لا کر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے تو ایسا نہیں ہو سکتا لیکن اگر ان کو یہ خطرہ ہو کہ ہماری اپنی Constituencies ہمارے اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی دباؤ اس بات کے خلاف بڑھ رہا ہے اور اس کا اثر ان کے ووٹوں پر پڑے گا تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا وہ انکار نہیں کر سکتے اور اب تک ہم نے ان آزاد ممالک کے عوام تک براہ راست بات پہنچانے کی ویسی کوشش نہیں کی جیسے کہ حق تھا۔اس لئے آج کے بعد سے میں نے منصوبہ بنایا ہے اور میں آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ اس پر عمل درآمد کرنے کے سلسلے میں پورا تعاون کریں گے جیسا ہمیشہ کرتے ہیں اور مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے۔اس کے نتیجے میں امریکہ میں بھی اور مغربی یورپ کے ممالک میں بھی اور دیگر مغربی ممالک میں بھی اور مشرقی ممالک میں بھی اس قوت کے ساتھ ہم نے اس آواز کو بلند کرنا ہے کہ سیاستدانوں تک اس کی بازگشت براہ راست ہمارے ذریعہ نہیں بلکہ اپنے ووٹروں کے ذریعے پہنچنی شروع ہو جائے۔وہ