خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد ۸ 27 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء آپ میں سے ہر شخص کو تجربہ ہے زخموں کا ، چوٹیں لگ جاتی ہیں اور ان کے اوپر ایک کھرنڈ سا اس کو کہتے ہیں یعنی ایک چھلکا سا آ جاتا ہے زخم کے اوپر۔نادان لوگ کچے چھلکے کو چھیڑتے رہتے ہیں۔بچے اور بندر برداشت ہی نہیں کر سکتے وہ۔ہلکی سی جب کھجلی پیدا ہوتی ہے وہ تبتل کے مقام سے پہلے کی کھلی ہے۔ابھی پورا تل ہوا نہیں ہوتا لیکن تقتل میں بھی ایک مزہ ہے اور اس مزے کے نتیجے میں انسانی ہاتھ جو نادانوں کے ہاتھ بار بار اس جگہ پر پہنچتے ہیں کہ اسے اب اُتار ہی دیں لیکن اتارنے کے لئے کچھ اور صبر کرنا پڑتا ہے، کسی اور وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔جب مکمل طور پر وہ چھلکا اس زخم والی جگہ کو چھوڑ دیتا ہے تو ہلکا سا ہاتھ لگنے سے ہی وہ خود اُکھڑ کر ایک طرف ہو جاتا ہے۔پس انسان کا فرار کے نتیجے میں خدا کی طرف بھا گنا اور چیز ہے لیکن خدا کی محبت کے پختہ ہونے کے نتیجے میں بعض چیزوں سے بے رغبت ہی ہوتے چلے جانا یہ تبتل الی اللہ ہے اور تبتل الی اللہ غناء کے بعد نصیب ہوا کرتا ہے۔اسی لئے میں نے غناء کا مضمون پہلے رکھا۔جب آپ غناء اختیار کرتے ہیں تو غناء کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ غناء حقیقی طور پر حاصل ہو ہی نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے قرب کا احساس نہ ہوا اور جب خدا کے قرب کا احساس ہو جاتا ہے تو جس چیز سے غناء نصیب ہوتی ہے اس کے ساتھ تعلق واجبی سا رہ جاتا ہے اور یہ جو غناء کا مضمون ہے جب تبتل الی اللہ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو پھر ایک تعلق مزید پیدا ہو جاتا ہے ان چیزوں سے جن سے انسان کا واسطہ ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے سوا کہیں اور تفصیل سے مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس ارشاد ربانی کے تابع پہلے تقتل اختیار کیا ہے۔قانع تو آپ تھے ہی غناء آپ کو کامل طور پر نصیب تھی اور تبتل کا جو حکم آیا ہے یہ ابتدائی نبوت کے زمانے میں ہی عطا ہو چکا تھا۔دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ترقی کی منازل اتنی جلد جلد طے کی ہیں کہ تاریخی نقطہ نگاہ سے کسی جگہ انگلی نہیں رکھی جاسکتی کہ یہاں اس منزل پر تھے اور وہاں اس منزل پہ تھے لیکن مضمون کی اندرونی ترتیب کے لحاظ سے انگلی رکھی جاسکتی ہے کہ یہ ہوا پھر یہ ہوا پھر یہ ہوا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدا کی ذات سے عشق کے کمال کا نتیجہ تھا کہ آپ کو تمام بنی نوع انسان، تمام مخلوقات سے تبتل نصیب ہوا اور تبتل کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری تعلق موجود رہا لیکن دل خدا کی طرف مائل ہو چکا تھا۔جتنا زیادہ تل ہواتنا